ترک مرکزی بینک نے شرحِ سود میں کمی کردی

0 1,217

ترک مرکزی بینک نے اپنی پالیسی شرح میں 325بیس پوائنٹ کی کمی کرتے ہوئے اسے 19.75 فیصد سے گھٹا کر 16.5 فیصد کردیا ہے۔ یہ دو مہینوں میں دوسری بار کی گئی کمی ہے۔

گزشتہ روز کی مالیاتی پالیسی کمیٹی (MPC) اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں بینک نے کہا کہ حالیہ ڈیٹا نے ظاہر کیا کہ معاشی سرگرمیوں میں درمیانے درجے کی بحالی ہوئی ہے۔

بینک کی جانب سے شرح میں کمی کے بعد ترک لیرا امریکی ڈالر کے مقابلے میں جم کر کھڑا ہے۔ مقامی کرنسی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 5.70 فی ڈالر پر آ گئی ہے۔

ایک بیان میں بینک نے بتایا کہ اقتصادی نمو میں خالص برآمدات کا حصہ بدستور جاری ہے، جبکہ سرمایہ کاری طلب اب تک کمزور ہے اور نجی کھپت میں سال کی پہلی ششماہی میں مرحلہ وار اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں سیاحت سے ہونے والی زبردست آمدنی پر زور دیا گیا کہ جو بلاواسطہ اور بالواسطہ ذرائع سے اقتصادی سرگرمی کو سہارا دے رہی ہے۔

"امید ہے کہ خالص برآمدات اقتصادی نمو میں بدستور حصہ ڈالیں گی اور ازالہ افراط زر اور مالیاتی حالات میں بہتری کی مدد سے مرحلہ وار بحالی کا عمل جاری رہے گا۔”

تازہ ترین ڈیٹا نے ظاہر کیا کہ ملک کا موجودہ خسارہ اس جون میں 548 ملین ڈالرز کی سالانہ بنیاد پر کم ہوکر 82 فیصد ہو چکا ہے۔

افراط زر کا بہتر منظرنامہ

بینک نے افراط زر کے منظرنامے کی بہتری پر بھی زور دیا۔ سالانہ افراط زر کی شرح پچھلے مہینے کی 16.65 فیصد سے گھٹ کر اگست میں 15 فیصد تک پہنچی۔

گزشتہ دہائی میں سالانہ افراط زر مارچ 2011ء میں 3.99 فیصد کی کم ترین شرح سے ہوتے ہوئے پچھلے اکتوبر میں 25.24 فیصد کی بلند ترین شرح تک گیا۔

"ترک لیرا کے مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ افراط زر کے حوالے سے توقعات میں بہتری اور ازالہ افراط زر کو سہارا دینے والی درمیانے درجے کی مقامی طلب اہم اشاریے ہیں۔ مقامی طلب اور مالیاتی سختی ازالہ افراط زر میں کام کرتی رہے گی۔” بیان میں کہا گیا۔

بینک کے مطابق موجودہ مالیاتی پالیسی رویہ بڑی حد تک ازالہ افراط زر کے عین مطابق ہے۔ "مالیاتی سختی کا دائرہ افراط زر کے رحجان پر غور کے ساتھ طے کیا گیا ہے تاکہ ازالہ افراط زر کے عمل کو جاری رکھنا ممکن بنایا جا سکے۔”

بینک نے زور دیاکہ وہ قیمتوں کے استحکام اور مالیاتی استحکام کے اہداف حاصل کرنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنا جاری رکھے گا۔

اس نے کہا کہ "اس امر پر زور دینا چاہیے کہ کوئی بھی نیا ڈیٹا یا معلومات کمیٹی کی اپنے پوزیشن میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔”

تبصرے
Loading...