انڈونیشیا کا نئے دارالحکومت کی تعمیر کے لیے ترک کانٹریکٹرز بھی تیار

0 1,566

ترکی کی وزیرِ تجارت نے کہا ہے کہ ترک کانٹریکٹرز انڈونیشیا کے نئے دارالحکومت کی تعمیر کے لیے تیار ہیں۔

ترکی-انڈونیشیا کانٹریکٹنگ سیکٹر ورچوئل بزنس فورم میں ترک وزیر تجارت رخسار پیک جان نے بتایا کہ ترک تعمیراتی اداروں نے قازقستان کو بھی اپنا دارالحکومت الماتے سے آستانہ منتقل کرنےمیں مدد دی تھی۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو وِدودو نے پچھلے سال 33 ارب ڈالرز کے میگاپروجیکٹ کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق دارالحکومت جکارتہ سے صوبہ مشرقی کلیمنتان منتقل کیا جائے گا۔ یہ قدم نہ صرف ملک کے گنجان آباد دارالحکومت کی جگہ ایک نئے شہر کی تلاش کے لیے اٹھایا جا رہا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ موجودہ دارالحکومت ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتی ہی سطحِ سمندر کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔ نئے دارالحکومت کے لیے تعمیراتی کاموں اور انفرااسٹرکچر کا آغاز 2021ء سے شروع ہوگا۔

جاپان اس وقت جنوب مشرقی ایشیاء کے اس ملک میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے، جس کی زیادہ تر سرگرمیاں جزیرہ جاوا پر ہیں جو ملک کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور موجودہ دارالحکومت بھی یہیں واقع ہے۔

پیک جان نے زور دیا کہ کرونا وائرس کی وباء کی وجہ سے کام رک جانے کے باوجود ترکی اپنا تجربہ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے اور ترکی دیگر انفرا اسٹرکچر اور سُپر اسٹرکچر منصوبے بھی حاصل کر سکتا ہے۔

پیک جان نے کہا کہ کانٹریکٹ اور ٹیکنیکل کنسلٹنسی کمپنیاں بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر اور ریونیو شیئرنگ کی بنیاد پر ڈیزائننگ ماڈلز کی تیاری کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ-سپلائی-کانٹریکٹ (EPC) اور ڈیزائن اینڈ بلڈ (D&B) منصوبوں کی صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ اس ضمن میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔

ترک کانٹریکٹرز اب تک 127 سے زائد ملکوں میں 10 ہزار سے زیادہ منصوبوں پر کام کر چکے ہیں، جن کی مالیت 400 ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہماری توجہ اپنی مارکیٹ کو متنوع بنانے کے لیے انڈونیشیا، ویت نام اور فلپائنز پر ہے۔”

ترکی اور انڈونیشیا کے درمیان سرمایہ کاری کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسری کے ساتھ ترویج و تحفظ کا سرمایہ کاری معاہدہ کرنا چاہیے، جو دونوں ملکوں کے کاروباری افراد کے لیے اہم ہوگا۔

وزیر نے انقرہ اور جکارتہ کے درمیان تجارتی حجم اور کاروبار کو بڑھانے کے لیے مقامی کرنسی میں تجارت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

چیئرمین ترکش کانٹریکٹرز ایسوسی ایشن (TMB) مدحت ینی گن نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترک کانٹریکٹر کی حیثیت سے وہ اس وقت 50 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھنے اور 127 سے زیادہ ممالک میں منصوبوں پر کام کرنے کے باوجود انڈونیشیا میں متحرک نہیں ہیں لیکن وہ اس ملک کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ وہ اس خطے سے انجان نہیں ہیں، کیونکہ وہ خطے کے دیگر ممالک میں اب تک 12.5 ارب ڈالرز کے تقریباً 900 منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔

انڈونیشیا کے وزیر برائے پبلک ورکس اینڈ سیٹلمنٹ باسوکی ہادی ملجونو نے کہا کہ وہ ترکی کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے، اور زور دیا کہ ترک کمپنیاں ایشیائی مارکیٹ میں داخلے کے لیے انڈونیشیا کو بیس کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

تبصرے
Loading...