ترکی کی تیار کردہ کووِڈ-19 ویکسین فیز 3 ٹرائل میں

0 33

وزارت صحت کی کرونا وائرس سائنٹیفک کمیٹی کے رکن پروفیسر الپر شینر نے کہا ہے کہ ترکی کی تیار کردہ کووِڈ-19 ویکسین ‘ترکو ویک’ کے فیز 3 ٹرائلز تکمیل کے قریب ہیں اور رضاکاروں کے طور پر "1,000 ہیروز” کی تلاش جاری ہے۔

الپر شینر ازمیر کی کاتب چلبی یونیورسٹی میں شعبہ وبائی امراض کے رکن بھی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ترکی میں کووِڈ-19 ویکسین کی تیاری وبا کے ابتدائی دنوں ہی میں شروع کر دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ترک ادارہ ہائے صحت کی صدارت (TUSEB) اور قیصری ارجیس یونیورسٹی کے تعاون سے بنائی گئی ترکو ویک ویکسین نے ایک سال جیسے مختصر عرصے میں مثبت نتائج دیے ہیں۔ "جب ہم ترکی میں صحت کی تاریخ دیکھتے ہیں تو یہ ایک حقیقی انقلاب ہے کیونکہ ہم نے مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین کے فیز 1 اور فیز 2 مرحلے کے ٹرائلز مختصر عرصے میں مکمل کیے اور فیز 3 تک پہنچے۔”

اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہ رسد اور ویکسین کی فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، شینر نے کہا کہ بوسٹر ڈوز کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے خاص طور پر مریضوں کی تعداد اور موسمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ویکسین کی آمد کے نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ "ملک میں ترکو ویک ویکسین کے فیز 3 مرحلے کے لیے تقریباً 3 ہزار افراد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اب تک تقریباً دو تہائی افراد مل چکے ہیں۔ ہمارے رضا کار شہریوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس لیے ہمیں کم از کم 1,000 ایسے ہیروز کی ضرورت ہے جن کی بدولت ہم ترکو ویک کے فيز 3 ٹرائلز مکمل کر سکیں اور پھر اس کی بڑے پیمانے پر دستیابی ممکن بنائیں۔ یہ رضاکار وزارت صحت کے تحت ہونے والے فیز 3 ٹرائلز میں شرکت کر کے تاریخ میں اپنا نام لکھوا سکتے ہیں۔ ہم تمام شہریوں کو اس کارِ خیر میں مدعو کرتے ہیں۔”

یہ بتاتے ہوئے کہ فیز 3 ٹرائلز رواں سال مکمل ہونے کا منصوبہ بنایا گیا ہے شینر نے کہا کہ 2022ء سے ترکو ویک کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویکسین ترکی کی ضروریات بھی پوری کر سکتی ہے اور درخواست پر دیگر ممالک کو بھی بھیجی جائے گی۔

ترکو ویک پروفیسر آئے قوت اوزداریندلی کی زیر قیادت سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے سات ماہ میں تیار کی تھی۔ اس کے فیز 1 ٹرائلز نومبر 2020ء میں شروع ہوئے تھے جبکہ فیز 2 کا آغاز 10 فروری کو ہوا تھا۔ ابھی تک رضا کاروں میں اس کے کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے۔

اب جبکہ ترکو ویک تجربات کے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے، اس لیے ویکسین بنانے والوں نے حالیہ چند ماہ میں اس ویکسین اور چائنا کی کرونا ویک کے درمیان تقابل پر تحقیق شروع کر رکھی ہے جو استنبول اور دارالحکومت انقرہ میں جاری ہے۔ اس تحقیق میں تیسرے ڈوز کے بعد دونوں ویکسینز کی مؤثریت کو جانچا گیا ہے۔

تبصرے
Loading...