ترکی نے جدید ترین لڑاکا ڈرون بنانے کے بعد بغیر پائلٹ کے جنگی جہاز بنانے کا کام شروع کر دیا

0 1,660

ترک ڈرون بنانے والی کمپنی بائیکار بغیر پائلٹ کے تیار ہونے والے عالمی دفاعی ٹیکنالوجی سسٹم کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور ہم بغیر پائلٹ کے لڑاکا طیاروں پر کام کر رہے ہیں یہ بات بائیکار کے سی ٹی او نے بتائی۔

سیلجوق بائیکارتر نے یہ بات آزربائیجان کے ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سیلجوق بائیکارتر اس وقت آزربائیجان میں ہیں جہاں انہیں اعلیٰ سرکاری اعزاز سے نوازا گیا ہے کیونکہ ناگورنو کاراباغ تنازعہ کو حل کرنے میں ان کے بنائے گئے ڈرون طیاروں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

سیلجوق بائیکاتر نے کہا کہ دنیا بھر کے دباؤ کے باوجود آذربائیجان کی فتح اور آرمینی قابض افواج سے اپنی زمینیں واپس لینا بغیر پائلٹ کے دفاعی نظام کی پہلی بڑی کامیابی تھی، بالخصوص ترکی کے بائیکار یو اے وی طیاروں کی جنہیں اس جنگ میں آزمایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج بغیر پائلٹ کے نظام صرف یو اے وی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انسانیت ٹینکوں کے بجائے زمین پر چلنے والی سمارٹ، ہلکے اور تیز رفتار گاڑیاں بھی زیر بحث آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگی طیاروں کا بھی یہی حال ہے۔ اب دنیا میں آخری لڑاکا طیارے بنائے جارہے ہیں،اس کے بعد جنگی جہاز نہیں بنائے جائیں گے ” البتہ بغیر پائلٹ کے جنگی طیارے سامنے آ رہے ہیں اور وہ بھی اس شعبہ میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آذربائیجان اور سابق سوویت جمہوریہ آرمینیا کے مابین شروع ہونے والے تنازعہ میں بائیکار کے بائیکارتر ٹی بی ٹو نے اہم کردار ادا کیا۔

اس بات کا اظہار کئی فوجی ماہرین اور دفاعی ماہرین کر چکے ہیں کہ ترکی کے جنگی ڈرونز نے آزربائیجانی فوج کو دشمن کی افواج پر ایک برتری دلا دی تھی جس کی وجہ سے وہ ان کی پوزیشن اور فوجی سازو سامان کا پتہ لگانے اور انہیں تباہ کرنے میں آسانی محسوس کر رہے ہیں، بائیکارتر نے بغیر کسی دفاعی نظام میں آئے آرمینین بکتر بند گاڑیاں، ہاویزر اور روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔

اس جنگ کے دوران آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کئی فوٹیج بھی جاری کیے جن میں جدید ترین ڈرونز کی مدد سے تباہ ہوتے ٹینکوں، توپ خانے اور میزائلوں کو دکھایا گیا تھا یہ جدید ڈرون ترک بائیکارتر ٹی بی 2 تھے اور ان کو آپریٹ کرنے والے ترک ماہرین تھے۔

گذشتہ ہفتے، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے سی ٹی او سیلجوق بائیکارتر کو اپنے ملک کی فتح میں جنگی ڈرون کی خدمات مہیا کرنے پر "کاراباغ آرڈر” کے اعزاز سے نوازا تھا۔

ڈرون مینوفیکچرنگ کمپنی کے سربراہ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ وہ اس ڈرون کا جدید ترین ورژن بھی لا رہے ہیں جو ترکی کے نیول شپ کا حصہ ہو گا اور جنگی صورتحال میں تیزی سے حرکت میں لایا جا سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا، ” بائیکارتر ٹی بی 3 ایک ایسے طیارے کی حیثیت سے تیار کیا جارہا ہے جو ائیرکرافٹ کیئریر پر آنے والا ہوائی جہاز کی طرح اترتا ہو اور اپنی کلاس میں منفرد ہوتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ جنگی ڈرون انوینٹری میں موجودہ ڈرون کے مقابلے میں بھاری گولہ بارود لے جایا جا سکے گا۔

دریں اثنا، ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) ، جو بائیکار کے ساتھ ترکی کے دو بڑے یو اے وی پروڈیوسروں میں سے ایک ہے، TF-X نیشنل کامبیٹ ایئرکرافٹ (ایم ایم یو) کے ساتھ ساتھ بغیر پائلٹ کے نئے طیارے بنانے کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (AI) بطور سیکنڈ پائلٹ کے کام کرتی ہے۔

تبصرے
Loading...