ترکی کے ڈرون حملوں میں 21 شامی فوجی مارے گئے

0 307

ترک وزارتِ دفاع نے جمعے کو بتایا ہے کہ ادلب میں ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد ترکی کے ڈرون حملوں میں شامی حکومت کے کم از کم 21 فوجی مارے گئے ہیں۔

وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ڈرونز نے دو توپوں اور دو راکٹ لانچرز کو بھی تباہ کیا، جو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے کیے گئے۔

ترکی کے آپریشن اسپرنگ شیلڈ کے علاقے میں شامی حکومت کے حملے سیزفائر کے نئے معاہدے پر ترکی اور روس کے سربراہان کی ملاقات سے عین پہلے ہوئے۔

وزارت نے کہا کہ ترک افواج نے فوری جوابی کارروائی میں شامی حکومت کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، ترکی کے دو مزید سپاہیوں کی شہادت کی اطلاعات ملی تھیں۔ لیکن بعد میں بتایا گیا کہ ان میں سے ایک بدھ جبکہ دوسرے جمعرات کو شہید ہوئے تھے۔

ترکی نے ادلب میں شامی حکومت کے فضائی حملے میں 34 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد آپریشن اسپرنگ شیلڈ کا آغاز کیا تھا۔ روس کے ساتھ 2018ء میں ہونے والے معاہدے کے مطابق ترک افواج ادلب میں شہریوں کو شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے تھیں۔

کئی ہفتے کی کشیدگی کے بعد ترکی اور روس نے جمعرات کو ادلب کے معاملے پر باہمی تعاون جاری رکھنے اور سیزفائر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے جنگ زدہ صوبے کے لیے نئے اسٹیٹس کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔

سیزفائر جمعے کی شب 12 بجے شروع ہو چکا ہے۔ البتہ ایسی متعدد خبریں ملی ہیں کہ اس کے مؤثر ہونے کے نصف گھنٹے بعد ہی شامی فوج نے خلاف ورزیاں شروع کر دی تھیں۔

تبصرے
Loading...