معاشی مسائل کی وجہ ایردوان نہیں، امریکہ ہے! ٹرمپ کی دھمکیوں نے ترک عوام کی رائے کو بدل دیا

0 1,037

شمالی شام میں آپریشن سے ترکی کی اندرونی سیاست میں بھی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ترک صدر ایردوان کے سیاسی مخالف اس آپریشن میں ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں جبکہ بعض مقامات پر زیادہ شدید موقف اپنانے پر بھی اکسا رہے ہیں۔ کل ہی ترک صدر ایردوان کے سابق ساتھی اور نئی پارٹی بنانے کا عندیہ دینے والے سابق وزیراعظم احمد داؤد اولو نے ایردوان کا نام لیے بغیر کہا کہ صدر ترکی کو امریکی دورے بند کرنا چاہیے۔ ان کا اشارہ امریکہ نائب صدر اور خارجہ سیکرٹری کے انقرہ آمد کی طرف تھا، جبکہ اگلے ماہ ترک صدر ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن کا دورہ بھی کریں گے۔

ترک صدر ایردوان نے آپریشن کے اعلان سے قبل تین بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جن میں ملی حرکت پارٹی، جمہوریت خلق پارٹی اور اچھی پارٹی شامل ہے۔ تینوں پارٹی سربراہان نے اس موقع پر ترک صدر ایردوان کے اقدام کی حمایت کی اور اس معاملے پر یکجہتی قائم رکھنے کا اظہار کیا۔

دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں نے ترکی کی اندرونی حلقوں پر بھی اثرات ڈالے ہیں جو ترکش لیرا کی گرتی صورتحال کی وجہ ایردوان کو قرار دیتے رہے ہیں۔ ترک حلقوں میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ ترکی کے معاشی مسائل میں امریکہ اور صدر ٹرمپ کا ہاتھ ہے۔ دوسری طرف بعض حلقے ایردوان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بہتر کر کے معاشی صورتحال کو بہتر کریں۔

تبصرے
Loading...