گمراہ کُن تصاویر لگانے پر ترک سفارت خانے کی سی این این پر تنقید

0 291

امریکا میں واقع ترک سفارت خانے نے کروناوائرس کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں جان بوجھ کی استنبول کی تصاویر استعمال کرنے پر سی این این انٹرنیشنل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سفارت خانے نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ "سی این این نے امریکا میں COVID-19 کے حوالے سے اپنی خبروں میں جان بوجھ کر استنبول کی تصاویر استعمال کی ہیں۔ سی این این اپنے قارئین کو کانگریس کے دورے یا کیلی فورنیا کی جیلوں کے حوالے سے خبروں میں استنبول کی مساجد کی تصاویر استعمال کرنے کی کوئی تُک بتائے۔”

سی این این نے کروناوائرس کے حوالے سے خبروں میں جس تصویر کا استعمال کیا ہے اس میں استنبول کی بلدیہ کے ایک کارکن کو قلیچ علی پاشا مسجد میں اسپرے کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، حالانکہ اس خبر کا دُور پرے تک ترکی سے کوئی تعلق نہیں۔

مغربی ممالک کے دیگر ابلاغی ادارے بھی کروناوائرس کے حوالے سے اپنی خبروں میں ترکی اور استنبول کی تصاویر کا استعمال کر رہے ہیں جیسا کہ نیو یارک ٹائمز، بی بی سی اور سی این این وغیرہ۔

حال ہی میں کینیڈین وزیر اعظم کی اہلیہ کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت ثابت ہونے کے حوالے سے ایک خبر میں بی بی سی نے ایسی تصویر استعمال کی جس میں ترک شائقین کو ایک فٹ بال میچ کے دوران ماسک پہنے دکھایا گیا۔ حالانکہ یہ خبر کینیڈا کے وزیر اعظم اور اُن کی اہلیہ کے بارے میں تھی لیکن ایک مرتبہ جن تصاویر کا استعمال کیا گیا، وہ ترکی کی تھیں۔

نیو یارک ٹائمز نے بھی کروناوائرس کی وجہ سے سفر پر عائد پابندیوں کی خبر میں کچھ ایسی ہی حرکت کی۔ امریکا نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس عالمگیر وباء کو پھیلنے سے روکنے کے لیے یورپ سے اپنے سفری رابطے منقطع کر رہا ہے۔ اس میں یورپی یونین اور Schengen ممالک شامل ہیں، اور ترکی اس کا حصہ نہیں ہے کہ جہاں اب تک صرف دو مریضوں کی ہی تصدیق ہوئی ہے۔ لیکن اس خبر میں بھی استنبول کی دو تصاویر کا استعمال کیا گیا جو ترکی کا سیاحتی و مالیاتی مرکز ہے۔ سخت عوامی ردعمل کے بعد نیو یارک ٹائمز نے یہ تصاویر ہٹا لیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں ووہان، چین سے پھیلنے والا یہ وائرس اب تک 100 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے۔ ترکی اپنی شبانہ روز کوششوں کی بدولت اب تک اس مرض کو محدود کرنے میں کامیاب ہے اور یہاں محض دو مریضوں کی ہی تصدیق ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں اس سے مرنے والو ں کی تعداد 5,000 کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ 1,34,000 افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے حال ہی میں اس مرض کو عالمگیر وباء قرار دیا ہے۔

تبصرے
Loading...