ترک وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل امریکی دھمکیوں پر برس پڑے

0 12,732

ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے بدھ کے روزاقوام متحدہ کے اراکین کوبیت المقدس بارے اجلاس سے قبل دی جانے والی امریکی دھمکیوں پرزورمذمت کی ۔ امریکا نے ممبر ممالک کو دہمکیاں ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ بنانے کے خلاف پیش کئے جانے والے بل کی حمایت کرنے پر دیں۔

مقبوضہ بیت المقدس بارے میں اقوام متحدہ کے منعقد کردہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لئے روانگی سے قبل ترک وزیر خارجہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی سلامتی کونسل میں پیش کئے گئے بل کی حمایت کی توقع کرتا ہے کیونکہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ بنانے کے فیصلہ سے نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی اور یہود کوبھی پریشان کر دیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی فیصلے نے ہر ایک کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا البتہ امریکا جو اب اکیلا رہ گیا ہے آنے والے کل کے ووٹ سے قبل ہی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔

منگل کواقوام متحدہ کی امریکی نمائندہ خاتون نکی ہیلی نے امریکا کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ بنانے کہ فیصلہ کی مخالفت میں پیش کئے گئے بل کی حمایت میں ووٹ دینے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے دھمکی آمیز انداز میں ان ممالک کے نام امریکی صدر ٹرمپ کو بتانے کا کہا تھا۔

ترک وزیر خارجہ نے اس دھمکی کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ نام بتا کر کیا کریں گی؟ کیا امریکا ان ممالک کو بھی سزا سنائے گا؟ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دنیا اب ناانصافیوں کی باغی ہو چکی ہے۔ کوئی بھی قابل توقیر ریاست اس جبر کی فرمانبرداری نہیں کرے گی نہ ہی کوئی اس دباؤ کو قبول کرے گا۔

امریکا کو اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے چاوش اولو نے کہا کہ کل ہم ایک تاریخ رقم ہوتی دیکھیں گے۔

06دسمبر کو ٹرمپ نے مقبوضہ بیت ا لمقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ بنانے کا اعلان کیا تھا جسکے بعد تمام اسلامی ممالک اور فلسطین میں امریکا کے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کی لہرامڈ آئی تھی جو تاحال جاری ہے۔

بین ا لاقوامی برادری نے بھی اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اسے پہلے سے ہی نازک صورتحال سے دوچاراسرائیل فلسطین تنازعہ کے پر امن حل کے لئے کی جانیوالی کوششوں کے خلاف اور نقصان دہ قرار دیا۔

فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارلحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے فیصلہ کے خلاف 57مسلمان ملکوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کا اجلاس 13دسمبر کو ترک صدر رجب طیب ایردوان کے کہنے پراستنبول میں منعقد ہوا جسمیں تمام او آئی سی ممالک نے مشترکہ طور پر مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارلخلافہ قرار دیا جو کہ فی ا لوقت صیہونی ریاست اسرائیل کے زیر قبضہ ہے۔

1967کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے اس شہر (بیت ا لمقدس) جو کہ تینوں الہامی مذاہب عیسائیت، اسلام اور صیہونیت کے پیروکاروں کے لئے مقدس ہے پر غیر قانونی قبضہ کر لیا تھا جو کہ تب سے آجتک اسرائیل کے ہی زیر تسلط ہے۔
رپورٹ: سعد سلطان

تبصرے
Loading...