ترک فوج، آزاد شامی فوج کے ساتھ مل کر ادلب میں آپریشن کر رہی ہے، ایردوان

0 167

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے صوبائی سربراہان سے انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا: "میں نے کہا تھا ہم وہاں اچانک رات کے اندھیرے میں آئیں گے۔ اور اب ہماری فوج نے گزشتہ شب آزاد شامی فوج کے ساتھ مل کر ادلب آپریشن کا آغاز کر دیا ہے”۔

ہم انہیں کبھی نہیں بھولیں گے جو مسلسل ہمارے ساتھ غلطیاں کر رہے ہیں

ترک صدر نے ان لوگوں کی طرف جو ترکی کو مغرب اور دنیا سے دور کرنے کے لیے ہر قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں، اشارہ کرتے ہوئے کہا: "تاہم ہم صبر کرتے ہیں اور کہتے ہیں، ہم اپنا راستہ نہیں چھوڑیں گے، اور کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اگر آپ ایمان دار ہیں تو پھر اپنا فیصلہ سناؤ اور اس معاملہ کا خاتمہ کرو۔ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہے یہاں، باہمی مفادات کا فارمولا ہے اس پر چلتے ہیں”۔

صدر ایردوان نے مزید کہا: "ہمارے ملک اور قوم کی دوستی کی قیمت پر بے معنی اقدامات اٹھا کر وہ آخر کیا حاصل کر پائے ہیں؟، اگر وہ سوچتے ہیں کہ وہ ایسا کر کے ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، تو یاد رکھو اس کا نقصان ہم سے زیادہ تم اٹھاؤ گے۔ ترکی اپنے راستے پر ہے اور یقین رکھیں کہ یہ اس رستے پر چلتا جائے گا۔ جیسا کہ ہم ان لوگوں کو نہیں بھولیں گے جو مشکل حالات میں ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، اسی طرح ہم انہیں بھی نہیں بھولیں گے جو مسلسل ہمارے ساتھ غلطیاں کر رہے ہیں۔ یقینا ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ملکوں کے درمیان تعلقات مطلق اتحادی یا مطلق دشمنی کی بنیاد پر نہیں چلائے جا سکتے۔ تاہم، ہم بعض ریاستوں کے منافقانہ طرز عمل سے بہت الجھن میں ہیں جنہیں ہم اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں، جن کے ساتھ ہم بہت سے پلیٹ فارمز پر مل کر کام کرتے ہیں”۔

کرد دہشتگردوں (پی وائے ڈی اور وائے پی ڈی) کو داعش کے خلاف جنگ میں استعمال کرنا

صدر ایردوان نے واضع کرتے ہوئے کہ جو ترکی کو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، حقوق اور آزادیوں پر لیکچر دیتے ہیں جب ان کے اپنی سرگرمیوں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو نظر انداز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: "جو ہم پر مسلسل الزام لگاتے تھے کہ مؤثر طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے، اب دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ مل کر ہمارے خطے کو منظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں داعش کو اپنا سب سے بڑا ہدف قرار دیا، آج  اب پی وائے ڈی اور وائے پی ڈی جیسی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ کرتے ہیں”۔

انہوں نے کہا: "میں یہاں پوچھتا ہوں کہ ان لوگوں کا آخرکیا مقصد ہے جو ہماری جنوبی سرحدوں پر، شمالی شام میں 3300 سے زائد ٹریلر ٹرکوں کی مدد سے دہشتگرد تنظیم اوردہشتگرد ریاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ان لوگوں کے کیا عزائم ہیں جو ان کو بغیر کسی قیمت پر بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کرتے ہیں؟ جبکہ ہمیں روکا جاتا ہے، ہم اپنے پیسوں سے ہتھیار نہیں خرید سکتے، بتائیے بھاری مقدار میں مفت اسلحہ دینے پر آپ کا کیا نقطہ نظر ، کیا مقصد ہے؟”۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان سوالات کے جوابات سے بخوبی واقف ہیں اور روس، ترکی اور ایران آستانہ مذاکرات کے ذریعے ایک مشترکہ فیصلہ پر پہنچے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات یاد دلاتے ہوئے کہا: "”میں نے کہا تھا ہم وہاں اچانک رات کے اندھیرے میں آئیں گے۔ اور اب ہماری فوج نے گزشتہ شب آزاد شامی فوج کے ساتھ مل کر ادلب آپریشن کا آغاز کر دیا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترکی کی تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ رجیم کی شکل میں ان تمام لوگوں کا مقابلہ کرے جو معصوم عوام پر جبر کرتے ہیں اور تباہ کن اسلحے سے نشانہ بناتے ہیں

ادلب میں وہ ہیں جو حلب سے بھاگ کر پناہ لینے پر مجبور ہوئے یا شہر بدر ہوئے

ادلب میں وہ لوگ ہیں جو حلب میں ظلم سے بھاگ کر وہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے یا حلب سے سے شہر بدر ہوئے۔ حلب میں جن کے زندہ رہنے کا حق چھیننے کی کوشش کی گئی، ادلب ترکی کی سرحد پر واقع ہے، یہ بتاتے ہوئے ترک صدر نے کہا: "لہذا، ہمیں احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرنا ہیں، کوئی ہم سے یہ پوچھنے کا اختیار نہیں رکھتا کہ ‘یہ کیوں کرتے ہو؟’۔ وہ ہم ہی ہیں جو شام کے ساتھ 911 کلو میٹر سرحد رکھتے ہیں، ہم  ہی ہیں جنہیں اس سرحد سے مسلسل ہراساں کیا جاتا ہے اور دھمکیاں ملتی ہیں۔ کوئی بھی ہمیں نہیں ٹوک سکتا کہ ‘تم نے ایسا، ایسے کیوں کیا؟’۔

ترکی بغیر کسی امتیازی سلوک کے اپنے ترکمانی، عربی اور کرد بھائی اور بہنوں کے وقار کی حفاظت اور شکایات کے ازالے کے لیے سخت کوشش کر رہا ہے۔ صدرایردوان نے کہا کہ آفرین میں پی وائے ڈی اور وائے پی ڈی میں رہنے والے ترکمانیوں اور کردوں کے حالات زندگی مختلف نہیں بلکہ زیادہ ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شامی اسد رجیم سے بھی کوئی توقع نہیں رکھتے ہیں جو ان مسائل پر قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ترکی کو آگے بڑھ کر خطے کے لوگوں کو سنبھالنا ہے۔

شامی عراق کی صورت حال کے ذمہ دار کردار جانے پہچانے ہیں

عراقی صورت حال پر بات کرتے ہوئے رجب طیب ایردوان نے کہا: "شامی عراق کی صورت حال کے ذمہ دار کردار اور ان کے مقاصد جانے پہچانے ہیں۔اس کا انکشاف کرنے کے بجائے مجھے یقین ہے کہ ہم بہتر وقت پر بے نقاب کریں گے”۔

تبصرے
Loading...