ترک-جرمن یونیورسٹی کی کامیابی نئی مشترکہ جامعات کے لیے بنیاد فراہم کرے گی، صدر ایردوان

0 129

ترک-جرمن یونیورسٹی کی نئی تنصیبات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی میں دیگر مشترکہ جامعات کی تعمیر کی کوششیں جاری ہیں جیسا کہ ترک-جاپانی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور ترک-اطالوی یونیورسٹی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کوششیں جلد از جلد کامیابی سے ہمکنار ہوں گی۔ اس ضمن میں ترک-جرمن یونیورسٹی کی کامیابی نئی مشترکہ جامعات کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور جرمن کی چانسلر انگیلا مرکیل نے استنبول میں ترک-جرمن یونیورسٹی کی نئی تنصیبات کا افتتاح کیا۔

"ترک-جرمن یونیورسٹی مختصر عرصے میں ہمارے تعلیمی تعاون کا محرّک بن چکی ہے”

یہ بتاتے ہوئے کہ ترک-جرمن یونیورسٹی دونوں ممالک کے درمیان سائنسی، ثقافتی اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے کے لیے 10 اپریل 2010ء کو قائم کی گئی ایک سرکاری جامعہ ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ جامعہ، جس نے ‏2013-2014ء‎ تعلیمی سال میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا، مختصر عرصے میں ہمارے تعلیمی تعاون کے محرّکات میں سے ایک بن چکی ہے۔ یہ جامعہ، اپنی دو زبانوں میں تعلیم، پانچ کلیات، ایک ووکیشنل اسکول اور دو انسٹیٹیوٹس کے ساتھ، ترکی میں اہم ترین تعلیمی اداروں میں سے ایک بننے کے لیے قدم بڑھا رہی ہے۔”

صدر ایردوان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ہمارا ملک قابل ترین تعلیمی ماہرین کی توجہ حاصل کرے گا؛ دوسرے الفاظ میں یہ بڑے اذہان کے لیے اہم مقام بن جائے گا۔ یہی وژن ہے جس نے ترک-جرمن یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔ اس وقت دیگر مشترکہ جامعات کے سلسلے میں بھی ایسی ہی کوششیں کی جا رہی ہے جیسا کہ ترک-جاپانی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور ترک-اطالوی یونیورسٹی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کوششیں جلد از جلد کامیابی سے ہمکنار ہوں گی۔ اس ضمن میں ترک-جرمن یونیورسٹی کی کامیابی نئی مشترکہ جامعات کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔”

” اگر پرامن ماحول کے لیے بلاتاخیر قدم نہ اٹھایا گیا تو لیبیا میں ہنگامہ آرائی بحیرۂ روم کے پورے ساحلی علاقے کو متاثر کرے گی”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ انسانیت کو دہشت گردی، اسلاموفوبیا، ثقافتی نسل پرستی اور غیر ملکیوں کے خوف جیسے کئی مسائل کا سامنا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "مواصلات اور آسان سفر کے کئی ذرائع رکھنے والی اِس دنیا میں کوئی بھی ان مسائل سے غفلت نہیں برت سکتا، چاہے ہم جس خطے میں بھی رہتے ہوں۔ شام، یمن، عراق اور لیبیا میں ہونے والے واقعات نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ جس خطے میں ہم مقیم ہیں، ہم سب کا مقدّر ایک ہے۔ شام میں پچھلے 9 سالوں میں ہونے والے ہنگاموں نے نہ صرف پڑوسی ملکوں بلکہ پورے یورپ خاص طور پر جرمنی کو متاثر کیا ہے۔ اسی طرح اگر پرامن ماحول کے لیے بلاتاخیر کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو لیبیا میں ہنگامہ آرائی بحیرۂ روم کے پورے ساحلی علاقے کو متاثر کرے گی۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "اگر ہم لیبیا میں داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں یا غیر ملکی کرائے کے سپاہیوں کو قدم جماتے نہیں دیکھنا چاہتے تو ہمیں جلد از جلد تصفیہ کروانا ہوگا۔ ہمارا بنیادی مقصد اس بحران کا خاتمہ ہے کہ جس میں 2,400 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں، 7,500 زخمی ہوئے ہیں اور 3,00,000 سے زیادہ لیبیائی بے گھر ہوئے ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے اپنے دوست اور اتحادی جرمنی کے تعاون سے کام کر رہے ہیں۔”

تبصرے
Loading...