ترکی، نوجوانوں، کھیلوں اور اتاترک کی میراث کا قومی دن منا رہا ہے

0 799

ترکی، نوجوانوں، کھیلوں اور اتاترک کی میراث کا قومی دن منا رہا ہے۔ اس دن قومی تعطیل ہوتی ہے اور مختلف تقریبات میں نوجوان عزم کرتے ہیں کہ ریاست عثمانیہ کے زوال کے بعد ترکی کا احیاء ممکن بنائیں گے۔

آج مصطفٰی کمال اتاترک کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں پرتعیش اور خوش گوار تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جنہوں نے پہلی جنگ عظیم کے بعد ملک کی آزادی کی راہ پر لفظی طور پر پہلا قدم اٹھایا جب وہ 19 مئی 1919ء کو بحیرہ اسود کے صوبے سامسون میں اترے۔ پچھلے دو سالوں کے برعکس، اس سال تقریبات بغیر کسی پابندی کے منعقد کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ سالوں 2020ء اور 2021ء میں کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ یہ تقریبات روایتی طریقے سے نہیں منائی گئیں تھی۔

یہ دن، 1938ء سے یوتھ اینڈ سپورٹس ڈے کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، ملک کے نوجوانوں کو دن بھر کے پروگراموں میں کھیلوں، فنون اور دیگر سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو گزشتہ دہائیوں میں ہفتہ بھر کی سرگرمیوں میں تبدیل ہوئی ہیں۔

دارالحکومت انقرہ میں، نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر مہمت محرم کاساپوگلو نے نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ اتاترک کے مزار پر حاضری دی، جہاں انہوں نے پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ 81 صوبوں اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) کے نوجوان نمائندوں کے ساتھ ساتھ 11 ممالک کے نوجوان کھلاڑی اور نوجوان بھی مہمانوں میں شامل تھے۔ صدر رجب طیب ایردوان نے نوجوانوں کی ایک میٹنگ اور ایک کنسرٹ میں بھی شرکت کرنا ہے جہاں ترکی کی آزادی کی لڑائی کے بارے میں گانے سنائے جائیں گے۔

اسی طرح کی تقریبات 81 صوبوں میں منعقد کی گئیں۔

اس موقع پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ 19 مئی، اتاترک کی طرف سے "ترک نوجوانوں کو دیا گیا تحفہ” ہے، یہ وہ تاریخ تھی جب ہماری قوم کی قرارداد سے، آزادی سے محبت کا دنیا کے سامنے اعلان کیا گیا تھا اور ہمارے اندر مزاحمت کا جو جذبہ تھا۔ اسے دوبارہ زندہ کر دیا گیا”۔

ایردوان نے کہا کہ "ترک قوم 19 مئی 1919ء کو اتحاد و یکجہتی کے جذبے کے ساتھ سامراجی قابض قوتوں کے سامنے کھڑی ہوئی، جمہوریہ ترکی کے قیام کے لیے ہمہ جہت جدوجہد کرتے ہوئے شاندار بہادری کا مظاہرہ کیا، اور ایک بابرکت فتح حاصل کی۔ اور آج ہم آزادی کی طاقت اور جذبے کے ساتھ مستقبل کی طرف چل رہے ہیں جو ہم نے اپنی تاریخ سے ماخوذ کی ہے اور ترکی کی ترقی اور اسے روکنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت جدوجہد کر رہے ہیں”۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: