ترک انٹیلی جنس ایجنسی نے مغوی اطالوی امدادی کارکن کو صومالیہ سے بایاب کروا لیا

0 2,708

سیکیورٹی اطلاعات کے مطابق اطالوی حکام نے ترک قومی انٹیلی جنس ایجنسی سے اطالوی امدادی کارکن کے لیے باقاعدہ درخواست کی گئی تھی۔ 25 سالہ اطالوی شہری، سلیویا کونستازو رومانو کو نومبر 2018ء میں کینیا کے شہر چکاما سے اغوا کر کے صومالیہ منتقل کیا گیا تھا۔

ترک قومی انٹیلی جنس ایجنسی نے دسمبر 2019ء سے اس کیس پر کام کرنا شروع کیا تھا اور اپنے نیٹ ورک سے سب سے پہلے اس کے شواہد اکھٹے کیے کہ رومانو زندہ ہے۔

ایم آئی ٹی نے اپنی تیکنیکی انفرااسٹکچر کو حرکت میں لایا اور انٹیلی عمل کو آگے بڑھایا۔ اتوار کے روز جاری کی گئی معلومات کے مطابق رومانو کو صومالیہ سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

اطالوی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مشترکہ کاوشوں سے صومالیہ سے رومانو کو بازیاب کروایا گیا ہے۔ اطالوی ذرائع نے بتایا کہ رومانو کو امدادی تنظیم ملیلیل اونلوس کے افریقی منصوبے میں کام کے دوران کینیا سے اغوا کیا گیا تھا۔

رومانو کا اٹلی میں شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کا استقبال اطالوی وزیراعظم، اطالوی وزیر خارجہ اور اس کے خاندان کے افراد نے کیا۔ اٹلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رومانو نے اپنی بازیابی کو ترکی، صومالیہ اور اٹلی کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ قرار دیا اور اس میں حصہ والوں کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم اس خبر سے بہت سے حلقے ترکی کی خطے میں دور رس رسائی سے پریشان ہوئے ہیں۔

اطالوی نائب وزیر خارجہ مارینہ سیرانی نے LA7 چینل پر بات کرتے ہوئے خطے میں جگہ کی تلاش اور بروقت ایکشن دکھانے میں ترک انتیلی جنس ایجنسی کے تعاون کا ذکر کیا۔

تبصرے
Loading...