ترکی نے مزید فوجی دستے شام بھیج دیے

0 92

ترک فوج نے ہزاروں اضافی دستے شمال مغربی شام بھیج دیے ہیں۔ یہ قدم ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب روس اور ایران کے رہنماؤں میں اگلے ہفتے ایک اہم ملاقات ہونے والی ہے۔

فی الحال کسی نئے سرحد پار آپریشن کے بارے میں کچھ بتایا تو نہیں جا رہا، لیکن کچھ عرصے سے ترک حکام مستقل کہہ رہے ہیں کہ ترکی روس نواز اسد حکومت کے ادلب پر بڑھتے ہوئے حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال اور اس کے نتیجے میں مہاجرین کی نئی لہر پیدا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔

ذرائع کے مطابق صدر رجب طیب ایردوان جلد ہی اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوتن اور نو منتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ملاقات میں ادلب کے معاملے پر بات کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافی دستے شام کی سرکاری افواج کو حزبِ اختلاف کے گڑھ کی جانب پیش قدمی اور ترک سرحد کو جانے والے راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے روکیں گے۔

یاد رہے کہ وزیر دفاع خلوصی آقار نے ستمبر کے اوائل میں ترک-شام سرحد کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ترکی مہاجرین کی نئی لہر برداشت نہیں کر سکتا، اور خطے میں استحکام پیدا کر کے ممکنہ ہجرت کو روکنے کی کوشش کرے گا۔

ادلب مارچ 2020ء کے ترکی-روس معاہدے کے تحت جنگ خصوصی علاقے میں آتا ہے کہ جہاں جنگ کی شدت کم کرنا ضروری ہے۔ لیکن شامی حکومت فائر بندی کی شرائط کی مستقل خلاف ورزی کرتی آئی ہے اور اس زون میں مسلسل حملے کرتی رہی ہے۔

ادلب تقریباً 30 لاکھ لوگوں کا مسکن ہے، جو ملک میں بے گھر ہونے والے کُل افراد کا دو تہائی ہیں۔

شمال مغربی شام کی تقریباً 75 فیصد آبادی ادلب میں ہے، جو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے امداد پر انحصار کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب بھی 16 لاکھ افراد کیمپوں یا کچی آبادیوں میں مقیم ہیں۔

ترک حکام اور خیراتی ادارے بے گھر شامیوں کو بہتر رہائش فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کر رہے ہیں۔ زیادہ تر بے گھر افراد ترک سرحد کے قریب واقع خیموں میں مقیم ہیں جبکہ دیگر شامی حزب اختلاف کے کنٹرول میں موجود علاقوں میں ہیں۔

مہاجر کیمپوں میں حد سے زیادہ افراد کی موجودگی اور بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ہزاروں افراد انسانی امداد کے شدت سے منتظر ہیں اور سخت حالات میں جینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے آخری گڑھ ادلب پر ‏2018ء سے حملے بہت بڑھ گئے ہیں، جو ترک سرحد کی جانب مہاجرین کی نئی لہر آنے کا سبب بن رہے ہیں حالانکہ ترکی پہلے ہی 37 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ترکی نے حالیہ چند ہفتوں میں اپنے مزید دستے اور ہتھیار خطے میں بھیجے ہیں تاکہ شامی حکومت کی پیش قدمی اور مہاجرین کی کسی نئی لہر کو پیدا ہونے سے روک سکیں۔

علاقے میں ترک فوج کے قیام کا مقصد مقامی آبادی کو تحفظ فراہم کرنا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات اٹھانے کے لیے مقامی گروپوں کی مدد کرنا ہے۔ فوجی پیش قدمی کے باوجود انقرہ معاملات کو سفارتی ذریعے سے حل کرنا چاہتا ہے تاکہ اس معاملے کا کوئی سیاسی نتیجہ نکلے۔

تبصرے
Loading...