ترک افواج کے ‏PKK کے ٹھکانوں پر حملے، شمالی عراق میں زمینی آپریشن کا آغاز

0 249

ترک فوج نے نئے آپریشن Claw-Tiger کے تحت شمالی عراق کے علاقے حفتانین میں طے شدہ فضائی حملوں سے پہلے ‏PKK دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے اور 150 سے زیادہ ٹھکانوں پر گولا باری کی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اہداف کو سخت گولاباری کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے اور آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

وزیرِ دفاع خلوصی آقار نے شمالی عراق میں نئے شروع ہونے والے زمینی آپریشن پر فوج کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اس وقت فوج مقامی طور پر تیار کردہ ساز و سامان کے ذریعے جامع آپریشن کر رہی ہے کہ جن میں توپیں، طویل فاصلے پر مار کرنے والے راکٹ لانچرز اور مسلح ڈرون طیارے شامل ہیں۔

آپریشن توپ خانے کی گولا باری سے شروع ہوا، جس کے بعد مسلح ڈرونز، ایف-16 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا۔

کمانڈوز نے بھی مخصوص علاقوں میں کارروائیاں کیں کہ جہاں انہیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اتارا گیا۔

آپریشن کلا-ٹائیگر کا آغاز آپریشنل کلا-ایگل کے کچھ دن بعد ہوا تھا کہ جو ‏PKK اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرکے ملک کی سرحدوں اور ترک عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

PKK کے دہشت گرد 2014ء کے وسط میں سنجر کے علاقے میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئے تھے، جس کے لیے انہوں نے مقامی یزیدی برادری کو داعش سے بچانے کا بہانہ تراشا۔ اس کے بعد سے ‏PKK اپنی تمام سرگرمیوں کے لیے سنجر کو ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔

ترکی کا عرصہ دراز سے کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا اور عراق حکام سے بارہا مطالبہ کیا کہ وہ اس دہشت گرد گروپ کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔ انقرہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر یہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو وہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں تاخیر نہیں کرے گا، خاص طور پر سنجر میں۔

ترک مسلح افواج شمالی عراق میں مستقل سرحد پار آپریشن کر رہی ہیں، جہاں ‏PKK دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں جہاں سےوہ ترکی پر حملے کرتے ہیں۔

ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے ‏PKK نے 40 سال سے جاری اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں تقریباً 40 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے کہ جن میں عورتیں، بچے اور شیرخوار بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...