ترک فوج نے شمالی شام میں YPG کے اہم ٹھکانوں پر قبضہ کرلیا

0 477

ترکی کی وزارت قومی دفاع نے کہا ہے کہ ترک فوج نے شمالی شام میں اہم ٹھکانوں پر قبضہ کرلیا ہے اور یوں آپریشن بہارِ امن منصوبے کے عین مطابق کامیابی سے جاری ہے۔

وزارت نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انسدادِ دہشت گردی کے اس جاری آپریشن کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔

ترک فوج نے شمالی شام میں پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے تقریباً 181 اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ آپریشن بہارِ امن میں شریک کمانڈوز نے دریائے فرات کے مشرقی علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔

فائر کھولتے کمانڈوز کی فوٹیج بھی وزارت کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ وزارت نے کہا کہ "فضائی عناصر اور مددگار گاڑیوں کے ساتھ ترک مسلح افواج نے آپریشن بہارِ امن کے تحت دہشت گرد تنظیموں (YPG/PKK) سے تعلق رکھنے والے کل 181 اہداف پر فائر کھولا۔”

ترکی نے 9 اکتوبر کی شام 4 بجے شمالی شام میں بین السرحدی انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے سلسلے میں تیسرا "آپریشن بہارِ آمن” شروع کیا ہے جو داعش اور PKK کے شامی حصے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) سے منسلک دہشت گردوں کو ہدف بنا رہا ہے۔

بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے جاری اس آپریشن کا ہدف دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں سے پاک ایک سیف زون کا قیام ہے تاکہ شامی مہاجرین کی وطن واپسی ممکن ہو سکے۔ یہ علاقہ امریکا کی حامی شامی جمہوری افواج (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جن کے اندر سب سے بڑا حصہ YPG دہشت گردوں کا ہے۔ YPG دراصل PKK دہشت گرد گروپ کے شامی بازو ڈیموکریٹک یونین پارٹی (PYD) کا مسلح وِنگ ہے۔

ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے PKK نے 30 سالوں سے ترکی کے خلاف دہشت گردی شروع کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 40,000 افراد کی جان جا چکی ہے کہ جن میں عورتیں، بچے بلکہ شیر خوار بھی شامل ہیں۔

2016ء سے اب تک ترکی شمال مغربی شام کے کئی علاقوں کو YPG/PKK اور داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن فرات شیلڈ اور آپریشن شاخِ زیتون کر چکا ہے جس کی وجہ سے 4,00,000 شامی شہریوں کی وطن واپسی ممکن ہو پائی۔

تبصرے
Loading...