ترکی میں موبائل صارفین کو کروناوائرس کے حوالے سے صدر ایردوان کا آڈیو پیغام ملے گا

0 586

صدر رجب طیب ایردوان نے کروناوائرس کی وباء پھیلنے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک آڈیو پیغام ریکارڈ کروایا ہے۔

یہ پیغام تمام ترک ٹیلی کمیونی کیشن سروس پرووائیڈرز کو دے دیا گیا ہے کہ جن کے صارفین کو آج یعنی ہفتے کے دن صدر ایردوان کی جانب سے خودکار کال آئے گی۔

ریکارڈ کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرنا ہے، خاص طور پر بزرگوں تک کیونکہ وہ COVID-19 کی وباء میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بزرگ شہری اس بیماری سے لاحق خطرات کے بارے میں جدید آن لائن ذرائع سے کم ہی معلومات حاصل کر پاتے ہیں، لیکن موبائل فون تک سب کی رسائی ضرور ہے۔

صدر ایردوان نے یہ پیغام مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی شیئر کیا ہے۔

اس ریکارڈ میں صدرایردوان نے کہا کہ ترکی ملک میں کروناوائرس کے اثرات کو گھٹانے کے لیے شبانہ روز کام کررہا ہے۔ "ہم کروناوائرس کے خلاف سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ وائرس زیادہ تر بزرگوں اور دائمی امراض کے شکار افراد کو متاثر کرتا ہے۔”

انہوں نے قوم سے مطالبہ کیا کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے اقدامات اٹھائیں لیکن ساتھ ہی بزرگ شہریوں اور دائمی امراض کے شکار افراد کا بھی خیال رکھیں۔”ممکنہ حد تک میل جول میں کمی کریں اور سب سے اہم بات یہ کہ انتہائی مجبوری کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلیں۔ اس سلسلے میں سرکاری اداروں اور تنظیموں خاص طور پر وزارت صحت کی دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔

صدرایردوان نے کہا کہ رشتہ داروں سے رابطے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی مواصلاتی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ نمازیں گھر پر ادا کریں اور مہمان داری سےگریز کریں۔ "میں اپنی اور پوری قوم کی طرف سے ان شہریوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جو کروناوائرس کے خلاف جدوجہد میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم ان شاء اللہ ان مشکل دنوں سے نکل آئیں گے۔”

وزیرِ صحت فخر الدین کوجا نے جمعے کو رات گئے بتایا تھا کہ ترکی میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 670 تک جا پہنچی ہے جبکہ 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

COVID-19 گزشتہ دسمبر میں ووہان، چین سے ابھرا اور اب تک دنیا کے کم از کم 164 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے اسے ایک عالمگیر وباء قرار دیا ہے۔

امریکا کی جانز ہوپ کنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 2,58,000 سے زیادہ تصدیق شدہ مریضوں میں سے اب تک 11,000 موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں اور 87,000 سے زیادہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...