امریکا میں ترک مسجد پر حملہ، عمارت کو شدید نقصان

0 3,179

مسلم دنیا کو مسلمانوں پر پر ایک اور حملے کا صدمہ سہنا پڑا ہے کہ جو رمضان کے مقدس مہینے میں ہوا ہے اور اِس مرتبہ امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کی ایک ترک مسجد ہدف تھی۔

ایک بیان میں نیو یارک میں ترک قونصل جنرل کے مذہبی خدمات کے اتاشی نے بتایا کہ نیو ہیون کے شہر میں قائم دیانت مسجد میں لگنے والی آگ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس میں شریک مجرموں کو پکڑنے کے لیےکوششیں جاری ہیں۔

یہ آگ اتوار کی شام 4 بجے رمضان کی 7 تاریخ کو لگی، جومسلمانوں کا مقدس مہینہ ہے کہ جس میں وہ روزہ رکھتے اور عبادتیں کرتے ہیں۔ روزہ مذہبِ اسلام کے پانچ ستونوں میں سےایک ہے۔ حکام کے مطابق اس حرکت کے مرتکب افراد کی گرفتاری میں مدد دینے والی کسی بھی اطلاع پر 2,500 ڈالرز کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ مسجد کے داخلی راستے پر لگی اور عمارت کے بیرونی حصے میں تیسری منزل تک پہنچ گئی۔ "کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی واقعے میں کوئی زخمی ہوا ہے لیکن ظاہر ہے کہ مسجد کو بہت بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ آگ کو بجھانے کے لیے کئی ٹن پانی کے استعمال نے عمارت کے ان حصوں کو بھی نقصان پہنچایا جہاں آگ نہيں لگی تھی۔”

اس واقعے نے امریکا، بالخصوص نیو ہیون، میں مقیم ترک برادری کو افسردہ کردیا ہے۔

انقرہ: حملے کے مرتکب افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے اس واقعے کو "وحشیانہ” قرار دیا اور کہا کہ اس کے مرتکب افراد کی نشاندہی کرکے "فوراً انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ رمضان کے مہینے میں نیو ہیون کی دیانت مسجد میں آتش زدگی دنیا میں بڑھتے اسلاموفوبیا کی ایک اور مثال ہے۔ واقعے کی واحد تسلی بخش بات یہ ہے کہ کوئی جانی نہیں ہوا۔” وزیر نے اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے خلاف شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔

صدارت مشیر ابراہم قالین نے بھی کہا کہ حملہ "بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور مسلمانوں سے نفرت” کا تازہ اظہار ہے۔ قالین نے ٹوئٹر پر کہا کہ "یہ امتیازی اور نسل پرستانہ ماحول عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور مزید نئے حملوں کی جانب جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سنجیدہ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔”

ترکی کی حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) ترجمان عمر چیلک نے بھی اس حملے پر ایک ٹوئٹ میں ردعمل ظاہر کیا جس میں کہا کہ نفرت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ چیلک نے کہا کہ نفرت کا نظریہ اس وقت مسجدوں کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن مرحلہ وار یہ تمام عبادت گاہوں کو لپیٹ میں لے لے گا۔ "جو اسلام کو دشمن سمجھ رہے ہیں وہ انسانیت کی تمام اقدارکو زہر آلود کر رہے ہیں۔” انہوں نے زور دیا۔

ملک میں یہ پہلا مسلم مخالف واقعہ نہیں ہے کیونکہ 2018ء میں جاری ہونے والی ایف بی آئی رپورٹ کے مطابق مذہب کی بنیاد پر ہونے والے تقریباً 19 فیصد نفرت انگیز جرائم کا ہدف مسلمان ہوتے ہیں۔

واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام کا ماننا ہے کہ آگ لگائی گئی تھی۔ مقامی پولیس کے علاوہ ایف بی آئی اور بیورو آف الکحل، ٹوبیکو، فائرآرمز اینڈ ایکسپلوزِوز (ATF) بھی تحقیقات میں شامل ہیں۔

اُبھرتا ہوا مسلم مخالف رحجان مغربی معاشروں میں ایک سنجیدہ خطرہ

کنیکٹیکٹ میں ہونے والا مسجد پر حملہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک تازہ مثال ہے۔

مسلم مخالف نفرت انگیزی سالوں سے بڑھ رہی ہیں۔ انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی اور زینوفوبیا نے مغربی ممالک میں مسلم مخالف نفرت کو مزید ایندھن دیا ہے کہ جہاں داعش اور القاعدہ کے دہشت گرد حملوں کو ایسے نظریات کی توجیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

گو کہ مسلمانوں سے پرخاش کوئی نیا طرزِ عمل نہیں، یہ 2001ء کے بعد سےبہت شدت اختیار کر گیا ہے کہ جب دو ہوائی جہاز نیو یارک شہر کے ٹوئن ٹاورز میں ٹکرائے۔ اس کے بعد سے اب تک تقریباً دو دہائیوں میں اسلام کو ناحق منفی معنی پہنانے کے ساتھ اور نفرت، تشدد، مغرب مخالف رائے اور خواتین پر ظلم و ستم کے مذہب کے طور پر پیش کیا گیا۔ عدم برداشت کا یہ رحجان تب سے مسلمانوں اور تارکینِ وطن پر زبردست حملوں کا سبب بنا ہے۔

15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے تیسرے سب سے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی النور اور لِن ووڈ مساجد میں جمعے کی نماز کے دوران عبادت گزاروں پر ایک دہشت گرد سے فائر کھول دیے جس سے 50 افراد شہید اور تقریباً اتنے ہی زخمی ہوئے۔ یہ قتلِ عام سوشل میڈیا پر براہِ راست پیش کیا گیا اور اس میں نسل پرستانہ اور مسلمان مخالف اعلانات بھی تھے کہ جن میں ترکی پر حملہ بھی شامل تھا۔

ناروے کے انتہائی دائیں بازوں کے سیاسی دہشت گرد آندرس بریوِک، جس نے 2011ء میں لیبر پارٹی یوتھ لیگ سمر کیمپ کے 69 شرکاء کو گولیاں مارنے سے پہلے اوسلو میں ایک وین بم میں آٹھ افراد کو قتل بھی کیا، نیوزی لینڈ کے حملہ آور سمیت مستقبل کے کئی حملوں کے لیے تحریک دینے والا بن گیا۔ اس کے بعد دہشت گرد حملوں میں مغربی ممالک میں سینکڑوں افراد نے اپنی جانیں گنوائیں۔

سوئیڈن میں ایک نقاب پوش شخص نے 22 اکتوبر 2015ء کو ٹرول ہیٹن کے کرونن اسکول میں تلوار کے وار سے دو افراد کو قتل اور ایک کو زخمی کردیا۔ اس شخص نے تارکینِ وطن طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اس اسکول کو ہدف بنایا۔ یہ سوئیڈش تاریخ میں کسی بھی اسکول پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ تھا۔ 3 دسمبر 2015ء کو ایک زخمی استاد بھی جان سے چلے گئے یوں اس واقعے میں ہلاک شدگان کی تعداد تین تک پہنچ گئی۔

22 جولائی 2016ء کو میونخ، جرمنی کے موساخ ضلع میں اولمپیا شاپنگ مال کے قریب ایک شوٹنگ میں مجرم سمیت 10 افراد مارے گئے اور 36 زخمی ہوئے۔ اس شخص کا تعلق جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) پارٹی سے تھا اور وہ "بہت قوم پرست” تھا اور ترک مخالف نعرے لگاتا رہا۔

سوئٹزرلینڈ میں ایک شخص نے 19 دسمبر 2016ء کو وسطی زیورخ میں "ہمارے ملک سے نکل جاؤ” کے نعرے لگاتے ہوئے ایک اسلامی مرکز پر حملہ کردیا۔ اسلامک سینٹرل کونسل آف سوئٹزرلینڈ نے ایک بیان جاری کیا کہ جس میں اس واقعے کو سوئس معاشرے میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے حوالے سے "خطرے کی گھنٹی” قرار دیا۔

29 جنوری 2017ء کو ایک شخص نے کیوبک سٹی، کینیڈا کے اسلامک کلچرل سینٹر میں فائرنگ کرکے چھ افرادکو قتل اور 19 کو زخمی کردیا۔ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اسے ایک دہشت گرد حملہ قرار دیا لیکن اس حملے کے مرتکب شخص پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ واقعے کو نفرت انگیز جرم اور مسلمان مخالف حملہ قرار دیا گیا۔

26 مئی 2017ء کو امریکا کے شہر پورٹ لینڈ میں ایک شخص نے دو افراد کوخنجر مار کرقتل اور تیسرے کو زخمی کردیا۔ اسے بارہا "مسلم مخالف نعرے بلند کرنے” پر مڈبھیڑ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ "پورٹ لینڈ پولیس بیورو کی رپورٹ کے مطابق یہ شخص "مختلف نسلوں اور مذاہب کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کر رہا تھا” اور دو نوعمر مسلم خواتین پر اشتعال انگیز جملے کسے کہ جن میں سے ایک نے حجاب پہنا ہوا تھا۔

برطانیہ میں ایک شخص نے 19 جون 2017ء کو نماز کے بعد لندن کی ایک مسجد سے نکلنے والے مسلمانوں پر گاڑی چڑھا دی۔ اس واقعے کو کہ جس میں ایک شخص ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوئے، دہشت گردی قرار دیا گیا تھا۔ شہری حقوق کے مختلف اداروں اور سیاست دانوں نے مرتکب شخص کو مسلم مخالف نظریات کا حامل قرار دیا۔

مسجد کی بحالی کے لیے عطیات کی مہم شروع

یہ بھی بتایا گیا کہ دیانت مسجد کے لیے ایک عطیہ مہم بھی شروع کردی گئی ہے۔

دیانت سینٹر آف امریکا (DCA) نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ اس مسجد کی بحالی کے لیے ایک مہم "Support the New Haven Mosque ” کے نام سے شروع کردی گئی ہے۔

DCA لین ہیم، میری لینڈ میں قائم نان پرافٹ ادارے ترک امریکن کمیونٹی سینٹر (TACC) کا نام ہے۔ کمیونٹی سینٹر 1993ء میں چند ترک امریکیوں نے ترک تارکینِ وطن اور امریکا میں رہنے والے مسلمانوں کو مذہبی، سماجی اور تعلیمی خدمات فراہم کرنے کے لیے بناا تھا۔ ایک جامع تنظیم کی حیثیت سے DCA امریکا بھر میں 22 مقامی چیپٹرز رکھتا ہے اور جمہوریہ ترکی کے مذہبی امور کے ساتھ مکمل تعاون سے کام کرتا ہے۔

فاتح کانجا، چیئرمین DCA، نے دردِ دل رکھنے والے ہر فرد سے دیانت مسجد کی بحالی میں مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔

مسجد کو پہنچنے والے نقصان کا کل تخمینہ 5,00,000ڈالرز لگایا گیا ہے، لیکن پہلے مرحلے میں جب تک کہ باضابطہ تحقیقات مکمل ہوں 1,00,000 ڈالرز جمع کرنا ترجیح ہیں۔

حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کنیکٹیکٹ کے گورنر نیڈ لیمنٹ نے اس حملے کو "قابلِ نفرت” اور "ہولناک” قرار دیا۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ "ہماری ریاست اور ہماری قوم میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نیو ہیون میں اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ تحقیقات میں مدد کے لیے کام کریں گے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔”

تبصرے
Loading...