شمالی عراق: قندیل میں موجود ترک دفاعی قوت سنجار اور مخمور تک پھیل سکتی ہے

0 962

ترکی نے شمالی عراق میں جاری فوجی آپریشن میں ‘پی کے کے’ لیڈرشپ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سنجار اور مخمور کے علاقوں تک پہنچنے کے لیے بھی معاہدے پر دستخط کر لیے ہیں۔ جمعرات کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ اگر عراقی مرکزی حکومت اور اقوام متحدہ نے علاقے کو صاف کرنے میں رغبت نہ دکھائی تو تو ترک فوج قندیل اور سنجار کے ساتھ ساتھ مخمور میں قائم پی کے کے کیمپوں پر بھی حملہ کرے گی۔ دفاعی خطرات کے پیش نظر ترکی، عراق میں قائم کردستان علاقائی حکومت کے مرکز اربیل سے جنوب کی طرف 100 کلومیٹر دور مخمور میں قائم ‘پی کے کے’ کیمپ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

‘پی کے کے’ نے تین سال قبل داعش کے خلاف جنگ کے پس منظر میں مخمور پر قبضہ کیا تھا اور یہاں پر بھرتی اور تربیت کا عمل شروع ہوا جس میں بچے بھی شامل ہیں۔

ترک صدر ایردوان نے سی این این ترک کو لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "اگر بغداد حکومت کہے گی کہ وہ قندیل اور سنجار میں ‘پی کے کے’ مسئلہ کو حل کر سکتی ہے تو یہ ہمارے لیے کافی ہو گا۔اور یہ بھی میں پہلی بار کہہ رہا ہوں کہ اقوام متحدہ کو مخمور میں دہشتگردی کے مسائل کو حل کرنا چاہیے”۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سے قبل سابق اقوام متحدہ سیکرٹری بان کی مون سے مخمور معاملہ  پر بات چیت کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لیے قائم ادارے UNCHR کے مطابق مہاجرین "پہلے ترک سرحد پر قائم اتروش کیمپ میں رہے۔ پھر 1997ء میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ تقریبا 4000 سے 5000 مہاجرین داھوک اور اربیل کی طرف نقل مکانی کر گئے۔ جبکہ ایک بڑا حصہ نے مخمور میں کیمپ گاڑ لیا۔ جو آج مٹی کے بنے گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں نظر آتا ہے اور اس میں چند دکانیں ہیں جو کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتی ہیں”۔

کیمپ میں رہنے والے لوگ دہشتگرد تنظیم کے دباؤ میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے خطے کو اپنا مرکز بنا دیا ہے۔ ‘پی کے کے’ کی طرف سے موصل کے شہر مخمور پر قبضہ پیشمرگا فورسز سے داعش کے قبضہ مافیا کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ آج مخمور کیمپ میں 12000 لوگ رہ رہے ہیں جو دہشتگرد تنظیم کے جبر کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ جمعہ کے روز ترک صدر نے نیوشہر میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ضروری سمجھا ترک فوج قندیل اور سنجار میں داخل ہو جائے گی۔

آپریشن شاخ زیتون کے ذریعے شام کے علاقے عفرین سے دہشتگردوں کی صفائی کے بعد ترک فوج اب شمالی عراق میں آپریشن کر رہی ہے تاکہ دہشتگرد گروپ کی قیادت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ مارچ سے عراقی سرحد کراس کر نے کے بعد اب تک 155 ‘پی کے کے’ دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔ ترک فوج برادوست اور بارازگر ویلی میں داخل ہونے کے بعد قندیل پہاڑی پر 30 کلومیٹر بڑھ چکی ہے جو قندیل کا دروازہ کہلاتی ہے۔

تبصرے
Loading...