ترک پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا ریگولیشن بل منظور کر لیا

0 247

ترک پارلیمنٹ نے بدھ کو سوشل میڈیا ریگولیشن بل کی توثیق کر دی ہے۔

اسے حکمران انصاف و ترقی (آق) پارٹی اور ملّی حرکت پارٹی (MHP) کے قانون سازوں نے منظور کیا تھا۔

یہ بل سوشل میڈیا پرووائیڈرز کی باضابطہ تعریف کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر ہونے والی خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور قانونی پیش رفت کے حوالے سے ذمہ دار نمائندے مقرر کرتا ہے۔

یہ حقیقی یا قانونی اداروں کو، جو صارفین کو سماجی رابطوں کے لیے تحریری، بصری، صوتی یا مقامی آن لائن کونٹینٹ تخلیق کرنے، مانیٹر کرنے یا شیئر کرنے کی اجازت دیتے ہیں، سوشل نیٹ ورک پرووائیڈرز قرار دیتا ہے۔

بیرونِ ملک قائم سوشل نیٹ ورک پرووائیڈرز جن کے ترکی میں روزانہ 10 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں انہیں ملک میں کم از کم ایک نمائندہ مقرر کرنا ہوگا۔ فرد کی رابطہ معلومات ویب سائٹ پر اس طرح دی جائے گی کہ وہ واضح اور آسان رسائی رکھتی ہو۔ اگر ادارہ حقیقی ہوگا، قانونی نہیں، تو یہ نمائندہ ترک شہری ہوگا۔

سوشل نیٹ ورک پرووائیڈرز کو ناپسندیدہ کونٹینٹ ہٹانے کے لیے 48 گھنٹے ملیں گے۔

پرووائیڈرز ترکی کے صارفین کا ڈیٹا ملک کا کے اندر محفوظ کرنے کے لیے بھی ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔

اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والے پرووائیڈرز پر جرمانے بڑھائے جائیں گے۔ اس سے پہلے جرمانے 10,000 سے 1,00,000 ترک لیرا (1,500 سے 15,000 امریکی ڈالرز) تھے لیکن اب یہ رقم 10 لاکھ سے ایک کروڑ لیرا (1,46,165 سے 14,61,650 امریکی ڈالرز) ہوگی۔

ترک رہنما عرصے سے اصلاحات کے لیے کوشش کر رہے تھے اور حال ہی میں اس پر عملدرآمد کیا۔

جعلی خبروں کے علاوہ ترکی سوشل میڈیا پر خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور موجودہ کروناوائرس کی وباء کے دوران ایسی مہمات کے خلاف کام کر رہا ہے کہ جو ان دنوں میں افراتفری پھیلا سکتی ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق 6 اپریل سے پہلے تین ہفتوں کے دوران 3,500 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، 616 مشتبہ افراد کو شناخت کیا گیا اور 229 افراد کو اپنی "اشتعال انگیز” سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے گرفتار بھی کیا گیا۔

تبصرے
Loading...