ہرقسم کی ذخیرہ اندوزی کیخلاف ترک پارلیمنٹ میں سخت قانون پاس

ترک پارلیمنٹ نے بدھ کے روز بل پر بحث مکمل کرتے ہوئے اسے پاس کر لیا

0 863

ترک پارلیمنٹ نے بدھ کے روز ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف بل پر بحث مکمل کرتے ہوئے اسے پاس کر لیا ہے۔ اس بل میں ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ ترکی میں ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

قانون سازی میں خوردہ تجارت کو ریگولیٹ کرنے والے قانون کے ایک آرٹیکل میں ترمیم کی گئی جس میں پیداواری حلقوں، سپلائی کرنے والوں اور خوردہ فروشوں کے لیے بھاری جرمانے متعارف کروائے گئے ہیں جو قلت پیدا کرنے، منڈیوں کے کام میں خلل ڈالنے اور آزاد مسابقتی نظام کو مسخ کرنے کے مختلف طریقوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

ہم خودکار اسلحہ بنانے والے تین بڑے ممالک میں ہیں، صدرایردوان

نئی قانون سازی کے تحت، جرمانے کی نچلی اور بالائی حدوں کو بالترتیب 50,000 لیرا اور 500,000 لیرا سے بڑھا کر 100,000 ترک لیرا (تقریباً 7,300 ڈالر) اور 2 ملین لیرا ($146,000) کر دیا گیا ہے۔

ترکی کے مرکزی بینک نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ وہ غیر صحت مندانہ قیمت بندی کا مشاہدہ کر رہا ہے جو "غیر حقیقت پسندانہ اور اقتصادی بنیادوں کے مکمل طور پر برعکس ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے بارہا کہا ہے کہ حکومت کمپنیوں کو سامان ذخیرہ کرنے اور قیمتیں بڑھا کر فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

ایردوان نے وضاحت کی تھی کہ قیمتوں میں اضافہ جزوی طور پر ذخیرہ اندوزی اور لالچ کی وجہ سے بھی ہوا ہے، مزید کہتے ہوئے کہ کھپت کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی وضاحت البتہ کہیں کہیں غیر ملکی کرنسی کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ سے کی جا سکتی ہے۔

ترکی کے ادارہ شماریات (TÜİK) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2021 میں مہنگائی میں ماہ بہ ماہ 13.6 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ سالانہ افراط زر کی شرح 36.1 فیصد ہے۔

تاہم ترکی کا مرکزی بینک کہتا ہے کہ افراطِ زر کا دباؤ عارضی ہے اور یہ برآمدات اور معاشی نمو کے لیے ضروری ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: