ترکی کی سیاست حرکیات، چنار اور مستقبل پارٹی کی آمد

0 1,892

گذشتہ ہفتہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کے قریبی ساتھی اور سابق وزیراعظم ترکی احمد داؤد اولو نے ایک نئی "مستقبل پارٹی” کی بنیاد رکھی ہے۔ وہ ترکی کے اہم وزرائے خارجہ میں سے ایک ہیں ۔ پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں او ملائیشیا اور ترکی میں پولیٹکل سائنس اور عالمی تعلقات پڑھاتے رہے ہیں اس لیے ان کے نام کے ساتھ پروفیسر بھی لکھا جاتا ہے۔ وہ پانچ سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ اگرچہ راقم کا خیال یہ ہے کہ مستقبل پارٹی، سوائے آق پارٹی کے چند فیصد ووٹ توڑنے کے مجموعی طور پر ترکی کی سیاست میں آق پارٹی یا ایردوان کا متبادل بننے کی بہت ہی کم صلاحیت رکھتی ہے۔ شاید اس وقت کے ترکی کے سیاسی منظر نامہ میں ایردوان کا متبادل پیدا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لیکن سیاسیات اور عالمی تعلقات کے ماہر پروفیسر احمد داؤد اولو کی جانب سے نئی پارٹی کے منشور اور علامتوں سے ترکی کی سیاسی حرکیات کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

ریاست عثمانیہ میں بنیادی طور پر مختلف ادوار میں تین سیاسی نظریات عثمانیت، اسلامیت اور قوم پرستی موجود رہے ہیں۔ احسان آقتاش ایک ترکش کالم نگار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان تینوں میں اگرچہ کسی ایک سلطان کے دور میں کوئی ایک نظریہ ہی بالادست رہا ہے لیکن ایسا قطعاً نہیں کہا جا سکتا کہ باقی نظریات اس دور میں نظر انداز کر دئیے گئے ہوں، باقی دونوں نظریات بھی ریاستی انتظامیہ اور پالیسی سازوں کے اہم رہتے تھے۔ ریاست عثمانیہ کے آخری دور سلطان عبد الحمید ثانیؒ کے دور میں اسلامیت کا نظریہ غالب رہا ہے کیونکہ ریاست قوم پرستی کے منفی اثرات سے اندرونی طور پر کمزور ہو رہی تھی۔ اگرچہ اس پر قابو نہ پایا جا سکا اور اندرونی سازشوں اور بیرونی حملہ آوروں کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ ترکی تک محدود ہو گئی اور خاتمے کے بعد یکسر مختلف قسم کا سیاسی نظام اس پر نافذ کر دیا گیا۔

1970ء میں ترکی کے نامور اسلام پسند رہنماء نجم الدین اربکانؒ نے "نیو اسلامیت” کی بنیاد پر سیاست کا آغاز کیا۔ اس نظریہ کے دو پہلو تھے ایک طرف اس میں مغرب کا رد اور ردعمل موجود تھا جس میں یہ بیانیہ اختیار کیا گیا کہ مغربی نظام اور اصول سیاست ظالمانہ اور استحصال کرتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف سائنس اور ٹیکنالوجی کو مشترکہ میراث قرار دینے ہوئے صنعت کے ذریعے آزادی اور بہبود کے فروغ کا دفاع کیا گیا۔ نجم الدین اربکان پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے انہوں نے اپنے اس نظریے سے ترکوں میں اسلامیت کو جگا دیا اور 1996ء میں اقتدار تک پہنچ گئے۔ صرف ایک سال میں اپنے نظریات کی بنیاد پر کمال اصلاحات کیں۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ آج ترکی جہاں کھڑا ہے اس کی پہلی اینٹ نجم الدین اربکانؒ نے رکھی تھی۔ لیکن اگلے ہی سال انہوں فوجی اشرافیہ نے چلتا کیا۔

رجب طیب ایردوان جو نجم الدین اربکانؒ کے سیاسی شاگرد کہلوانے پر آج بھی فخر کرتے ہیں انہوں نے جہاں نیو اسلامیت کو اپنی سیاست کا اہم عنصر بنایا وہیں نیوعثمانیت کو اپنی سیاست کا محور بنا دیا۔ انہیں ایک ایسے حوصلے کی ضرورت تھی جس سے وہ نہ صرف اپنی اصلاحات اور ایجنڈا کوآزادی کے ساتھ نافذ کر سکیں بلکہ سماج کو بھی بدل سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ماضی کی اچھے بُرے تجربات سے سیکھتے ہیں، ان عظمتوں سے حوصلہ پاتے ہیں اور موجودہ مسائل حل کرتے ہوئے مستقبل پر نظر رکھتے ہیں۔ نیو اسلامیت اور نیو عثمانیت کے توازن سے ایردوان نے وہ کامیاب سیاست کی کہ وہ اقتدار میں انہیں 20واں سال شروع ہونے کو ہے اور اس وقت بھی ترکی میں ان کا متبادل رہنماء موجود نہیں ہے۔

ترکی میں گذشتہ ڈیڑھ سالہ قیام میں، میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ترک معاشرے میں اسلامیت اور عثمانیت کو مضبوط ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ ووٹ بنک کا سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر آج یہی طبقہ ہے۔ صرف سیاست ہی نہیں، سماجی، معاشی اور ثقافتی میدانوں میں بھی اسی طرح طاقتور شکل اختیار کر چکا ہے۔ صرف ثقافتی سطح پر ہی دیکھیں تو ترکی سے باہر رہنے والے دریلش ارطغرل، پائے تخت عبد الحمید اور محمتچک کوت العمارہ جیسے ڈراموں کو دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے وہ اسکرین انڈسٹری پر بڑے شئیر بنا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بازاروں میں عثمانی دور کی علامتوں، فینسی ملبوسات، عطر، جیولری، حمام، مختلف اشیاء اور روایات عام لوگ خوشی خوشی سے خریدتے ہیں۔ نیو عثمانیت پر یقین رکھنے والوں میں صرف اسلام پسند ہی شامل نہیں ترک ایلیٹ کلاس بھی اس کا حصہ بننے میں عار محسوس نہیں کرتی بس یہ کسی کو روحانی حوصلہ دے رہی ہے تو کسی کو سماجی تفاخر۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب اسلامیت اور نیو عثمانیت کا نمائندہ صرف ایردوان نہیں رہا ہے۔ ملیت حرکت پارٹی تو عثمانیت پر یقین رکھتی تھی ہی نیو عثمانیت کا سیاسی نظریہ اسے ایسا بھایا کہ اب وہ ایردوان کے اتحادی ہیں۔ بعد میں اس کے دو حصے ہو گئے لیکن ووٹ تقسیم ہونے کے بجائے ڈبل ہو گیا۔ اب پروفیسر احمد داؤد اولو نے مستقبل پارٹی کے نام سے اپنی پارٹی کا اعلان کیا ہے تو اس کی پشت پر بھی یہ سیاسی حرکیات موجود ہیں۔ مستقبل پارٹی کا لوگو چنار کا ایک پتہ ہے جو عثمان غازیؒ کے ایک خواب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عثمان غازیؒ نے اس خواب کے بعد جو علاقہ بھی فتح کیا وہاں چنار کے درخت ضرور لگائے۔ آج بھی استنبول میں پھیلے چنار کے درخت اس کی یاد دلاتے ہیں۔

تبصرے
Loading...