ادلب مہاجرین کی امداد کے لیے ترک سیاست دان سب سے آگے

0 144

ترکی کے سیاست دان شام کے صوبہ ادلب کے بے گھر شہریوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں شامل ہو رہے ہیں اور اپنی جیب سے حصہ ڈال رہے ہیں۔

ادلب مہاجرین کے لیے تازہ ترین عطیہ پیر کو وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو کی طرف سے آیا ہے جنہوں نے 10 مزید گھروں کی تعمیر کے لیے امداد دی ہے جو بے گھر مہاجرین کو ٹھکانہ دیں گے۔

یہ عطیہ ایک مختلف امدادی اداروں کی مہم کے لیے دیا گیا ہے جو ترکی کی ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (AFAD) کے زیر انتظام ہے، جس کا عنوان ہے "ہم ساتھ ساتھ ہیں، ہم ادلب کے ساتھ ہیں۔”

اپنے دفتر میں شریک امدادی اداروں کے سربراہان کی میزبانی کرتے ہوئے سلیمان سوئیلو نے کہا کہ اس مہم کا بنیادی ہدف سردیوں کی آمد سے پہلے 50,000 بے گھر خاندانوں کے لیے گھر بنانا ہے اور مستقبل کے لیے ان کی امیدوں کے چراغ روشن رکھنا ہے۔ ترک عوام بے گھر شامیوں کو بچانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

مہاجرین کے بحران سے نمٹنے میں ناکامی پر یورپ پر تنقید کرتے ہوئے سوئیلو نے کہا کہ بین الاقوامی سپورٹ کی کمی کے باوجود ترکی اپنی سرحدوں پر امن و امان کو یقینی بنا رہا ہے۔

سوئیلو نے جمعے کو بتایا تھا کہ خاتونِ اول امینہ ایردوان نے بے گھر شامیوں کے لیے 57 گھر عطیہ کیے ہیں۔

ادلب اس وقت 40 لاکھ شامی شہریوں کا مسکن ہے ، جن میں جنگ زدہ ملک کے مختلف علاقوں میں بشار کی افواج کے مظالم سے تنگ ہوکر یہاں آنے والے لاکھوں افراد بھی شامل ہیں۔ تقریباً 10 لاکھ شامی پچھلے سال نومبر میں بشار کی افواج اور ان کے اتحادیوں کے حملوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے۔ زیادہ تر مہاجرین ترکی کی سرحد کے قریب واقع کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جبکہ کچھ شامی حزب اختلاف کے علاقوں کی جانب چلے گغے۔

اب بھی مہاجر کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور رش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان لوگو ں کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہزاروں خاندان فوری انسانی امداد کے منتظر ہیں اور سخت حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سوئیلو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ترک سرحد پر موجود مہاجرین کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ترکی اب تک 717 ملین لیرا (104 ملین ڈالرز سے زیادہ) خرچ کر چکا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے صدر رجب طیب ایردوان نے بھی رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ترکی 2020ء کے اختتام تک علاقے میں مہاجرین کے لیے 50,000 مزید گھر تعمیر کرے گا۔

صدر ایردوان نے شمال مغربی شام میں مہاجرین کے لیے گھر بنانے میں غیر سرکاری اداروں کے حصہ لینے پر ان کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ ترکی موسم گرما میں گھروں کی تکمیل کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ مہاجرین سردیوں سے پہلے مکانوں میں منتقل ہو سکیں۔ اس کےعلاوہ صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ادلب کے شہریوں کے لیے 50 سے زیادہ گھر بنانے کے لیے اپنی ذاتی جیب سے عطیہ بھی دیں گے۔

تبصرے
Loading...