شمالی قبرص نے چار دہائیوں کے بعد مرعش کو کھول دیا

0 167

ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) نے 46 سال سے بند علاقے واروشا (مرعش) تک عوام کو محدود رسائی فراہم کر دی ہے، جس کا ترکی نے خیر مقدم کیا ہے جبکہ یونان نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

اب مقامی افراد ساحلی پٹی اور شاہراہِ جمہوریت تک جا سکتے ہیں۔ یہ علاقہ آٹھ گھنٹے تک عوام کے لیے کھولا گیا، جس کی سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رکاوٹوں کے پیچھے کھڑے گارڈز ماسک پہنے مہمانوں کو جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ کچھ کے ہاتھوں میں ترکی اور شمالی قبرص کے پرچم بھی ہیں۔ انہیں ویران سڑکوں پر چلتے بھی دیکھا گیا کہ جس کے اردگرد گولیوں سے چھلنی عمارات بھی نظر آ رہی ہیں۔

تصاویر سے ظاہر ہوا کہ تقریباً 200 مہمان اس ویران علاقے میں آئے اور حکام نے Covid-19 کی وجہ سے سخت احتیاطی تدابیر کو یقینی بنا رکھا ہے۔

ترک وزارت دفاع نے اس کا خیر مقدم کیا اور ترک قبرص کو علاقہ کھولنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔

ترک نائب صدر فواد اوقتائی نے بھی واروشا کو کھولنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ "واروشا کے خوبصورت ساحل بحیرۂ روم کا موتی ہے، اور 46 سال بعد اب یہاں انسانی آوازیں گونجیں گی۔ مجھے یقین ہے کہ واروشا امن و ترقی کی علامت اور شمالی قبرص کی معیشت کا مرکز بنے گا۔”

دریں اثناء، یونانی قبرص کے رہنما نکوس اناستاسیادس نے اس ویران قصبے کو کھولنے کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یونان نے خبردار کیا کہ وہ یونانی قبرص کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ترکی پر پابندیاں لگوانے کی کوشش کرے گا۔ یونانی حکومت کے ترجمان استیلیوس پتساس نے کہا کہ "ترکی کو یہ قدم لازماً واپس لینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس معاملے پر اگلے ہفتے یورپی یونین کے رہنماؤں سے بات کی جائے گی۔”

یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ جوسپ بوریل نے کہا کہ اتحاد شہر کو دوبارہ کھولنے پر "سخت تشویش” رکھتا ہے اور "اعتماد کی بحالی اور مزید تقسیم پیدا نہ کرنے کی کوششوں” پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرے نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واروشا کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کا مؤقف اب بھی وہی ہے اور "یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے۔”

گوتیرے نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات جو جزیرے پر کشیدگی میں اضافہ کریں، ان سے اجتناب کرنا چاہیے اور فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اختلافات حل کرنے کے لیے مذاکرات کریں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل جمعرات کو اس حوالے سے بات کرے گی۔

واروشا قبرص کا سب سے مشہور سیاحتی علاقہ تھا کہ جس کے 100 سے زیادہ ہوٹلوں میں 10 ہزار افراد کے رہنے کی گنجائش تھی، البتہ 1974ء میں اسے بند کر دیا گیا تھا۔

اسی سال ترکی کی افواج نے یونان کی بغاوت کے بعد جزیرے پر قدم رکھے کہ جہاں ترک قبرصی پرتشدد کارروائیوں اور دہشت گردی کا نشانہ تھے۔

واروشا "گرین لائن” پر واقع ہے جو اس وقت دونوں برادریوں کے مابین سرحد کا کام کرتی ہے۔ یہ شہر 1984ء کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق محفوظ ہے، جس کا کہنا ہے کہ اسے صرف اپنے اصل باشندوں سے ہی دوبارہ آباد کیا جا سکتا ہے۔

اگر یونانی قبرص 2004ء کے اقوام متحدہ کے منصوبے، عنان پلان، کو قبول کر لیتا تو واروشا اب تک یونانی قبرص کے کنٹرول میں آ چکا ہوتا اور اس کے باسی اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہوتے۔

اس کے باوجود یونانی قبرص کی اکثریت نے اس منصوبے کے خلاف جبکہ ترک قبرص نے حق میں ووٹ دیا۔

اگر یونانی اور ترک کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں تور یونانی قبرص ترک بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ساتھ واروشا تک بھی رسائی حاصل کرے گا اور ترک قبرص غازی مغاسا کی بندرگاہ سے براہ راست تجارت کر پائے گا۔

تبصرے
Loading...