ترکی ریزورٹ شہروں میں بھارتی شادیوں کا ریکارڈ سیزن

0 312

ترکی بھارت میں شادیوں کی 50 ارب ڈالرز کی مارکیٹ کا سب سے بڑا حصہ پانے کے راستے پر گامزن ہے کیونکہ ترک ریزورٹ قصبوں میں زیادہ سے زیادہ بھارتی جوڑے شادی کے بندھنوں میں بندھ رہے ہیں۔ اس سال ملک نے پہلی بار تقریباً 20 بھارتی شادیوں کی میزبانی کی، جو گزشتہ سال کی 13 شادیوں سے زیادہ تعداد ہے۔ "یہ پہلی بار ہوا ہے۔ ان شادیوں نے ترکی کی تاریخ میں ریکارڈ توڑ دیے ہیں،” ترکی میں ہندو شادیوں کے لیے معروف میٹنگ، انسینٹِو، کانفرنسز اینڈ ایگزبیشنز (MICE) آپریٹرز میں سے ایک انونٹم گلوبل کے مینیجنگ ڈائریکٹر بنیاد اوزپاک نے کہا۔ یہ بحیرۂ روم کے کنارے واقع ریزورٹ انطالیہ تھا جس نے ترکی میں ہونے والی ان شادیوں کا سب سے بڑا حصہ پایا۔ ہر سال لاکھوں سیاحوں کی میزبانی کرنے والا یہ قصبہ خاص طور پر حالیہ چند سالوں میں رنگین بھارتی شادیوں کے لیے مقبول مقام بن چکا ہے۔

ان شادیوں کی تقریبات جو عموماً تین دن اور تین راتیں چلتی ہیں، میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں جو نجی ہوائی جہازوں سے ان ریزورٹ شہروں میں لائے جاتے ہیں اور یوں شہر کی سیاحت، خاص طور پر آف سیزن میں ، میں بڑا حصہ ڈالتی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ حکومت اور نجی شعبہ بھی بھارتی شادیوں کے ترکی میں زیادہ سے زیادہ انعقاد کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہے۔

اب تک 2019ء بھارتی شادیوں کے لحاظ سے بہت اچھا سال رہا ہے، اوزپاک نے ترکی میں بھارتیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

بھارت کے بڑی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے اوزپاک نے تجویز پیش کی کہ انطالیہ شادیوں کے لیے پسندیدہ ترین مقام ہے، جس کے بعد بودروم کا ریزورٹ قصبہ ہے اور ملک کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک کاپادوکیا ہے۔

اوزپاک نے کہا کہ انطالیہ کا آف سیزن نومبر سے مارچ کے درمیان ہوتا ہے اور شادیوں کی تقریبات کروانے والے ٹھنڈے موسم کی وجہ سے اسی عرصے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارتی شادیاں ترکی کے لیے ایک خوشگوار موقع ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں تشہیری سرگرمیوں کی بدولت وہ شادی کا منصوبہ بنانے والے ہر خاندن کی میز پر "ترکی کی فائل” رکھنے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاحتی سرگرمیوں کو پورے سال پر محیط کرنے کے لیے شادیاں ضروری ہیں۔ "ملک کی تاریخ میں پہلی بار انہوں نے تقریباً 20 بھارتی شادیوں کا انتظام کیا۔ ہم نے پچھلے سال کل 13 شادیاں کروائیں تھیں۔ یہ بڑا اضافہ ہے،” انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ "اس سال کو چھوڑ کر ملک میں ہونے والی شادیوں کی تقریبات کبھی 20 تک بھی نہیں پہنچی تھیں۔ اس سال یہ ریکارڈ بنانا بہت خوش آئند ہے۔”

بھارتی عموماً بیرونِ ملک شادی تقریبات کے لیے تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سنگاپور کو ترجیح دیتے ہیں۔ "اگر ہم اپنی ترویج کریں تو 20 یا 30 نہیں بلکہ 300، 500 بلکہ 1،000 تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس وقت ہم اس کیک کا بہت معمولی حصہ پا رہے ہیں۔” اوزپاک نے کہا۔

اس وقت بھارت سے باہر 10،000 شادیاں ہوتی ہیں۔ "یہ بہت بڑا کیک ہے۔ بھارتی شادیوں سے ہونے والی آمدنی بہت زیادہ ہے۔ ان کے بجٹ بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چند خاندان تو 5 لاکھ سے 50 لاکھ یوروز تک خرچ کر ڈالتے ہیں بلکہ 70 ملین اور یہاں تک کہ 1 لاکھ ملین یوروز والی شادیاں بھی ہیں۔ ان کی کوئی حد ہی نہیں۔ ترکی کا سیاحتی ڈھانچہ بہت مضبوط ہے۔ ہمیں بھارتی شادیوں کا بڑا شیئر حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔” اوزپاک نے زور دیا۔

بھارت دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے کہ جس کی آبادی 1 ارب سے زیادہ ہے۔ یہ گروپ ایونٹس میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر جبکہ شادی کی سیاحت میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

ترکی نے صدر رجب طیب ایردوان کے دورۂ بھارت کے بعد اور مقامی ٹورازم کمپنیوں کی کوششوں سے دو سالوں میں کافی پیشرفت کی ہے ۔

فی الوقت بھارت اور ترکی کے درمیان ویزا درخواست کا عمل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اوزپاک کہتے ہیں کہ ایسی شادیوں یا مختلف گروپ آرگنائزیشنز کے لیے ملک کے انتخاب میں پہلا امتحان ویزا ہوتا ہے۔ "بھارتیوں کے لیے شادی کے مقامات جیسا کہ دبئی اور تھائی لینڈ میں ویزا شرائط اتنی نہیں ہیں۔ وہ بھارتی شادیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے فی شخص 20 سے 50 یورو کی رعایت بھی دیتے ہیں۔ جب بھارت کو لچک دی جائے تو مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ شادیوں کا انعقاد کروایا جا سکتا ہے۔” اوزپاک نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔

تبصرے
Loading...