نگورنو-قاراباخ میں ترک-روس مشاہداتی مرکز کا افتتاح

0 228

ہفتے کو آذربائیجان کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ نگورنو-قاراباخ میں سیزفائر کے بعد صورت حال کی نگرانی کے لیے مشترکہ ترک-روس مشاہداتی مرکز قائم کر دیا گیا ہے۔

یہ مرکز، جس پر دونوں ممالک نے نومبر میں اتفاق کیا تھا، باضابطہ طور پر آذربائیجان کے علاقے اغدام میں کھولا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور روس اس مرکز کو چلانے کے لیے 60 اہلکار بھیجیں گے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بھی ہفتے کو اپنے آذربائیجانی ہم منصب الہام علیف سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران علیف نے صدر ایردوان کو مشترکہ مشاہداتی مرکز کے افتتاح پر مبارک باد دی۔

چھ ہفتوں کی لڑائی کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا نے روس کی مدد سے سیزفائر پر اتفاق کیا تھا۔

ترکی نے جمعے کو کہا تھا کہ ایک ترک جرنیل اور 38 اہلکار اس مرکز میں کام کریں گے۔

روس وزارت دفاع نے کہا کہ نگرانی کا کام ہمارے ڈرونز کے ذریعے اور ساتھ ساتھ دیگر ذرائع سے موصول ہونے والے ڈیٹا کی جانچ سے کیا جائے کا۔

روس کی مدد سے 10 نومبر کو ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں نگورنو-قاراباخ میں آذربائیجان اور آرمینیا کی لڑائی اختتام کو پہنچی تھی۔

نگورنو-قاراباخ آذربائیجان کا تسلیم شدہ حصہ ہے لیکن تقریباً تین دہائیوں سے آرمینیا کے علیحدگی پسند اس علاقے پر قبضہ جمائے بیٹھے تھے۔

معاہدے کے تحت آرمینیا آذربائیجان کو اپنے بیرونی علاقے نخچیوان تک محفوظ ٹرانسپورٹ رابطہ فراہم کرے گا۔

تبصرے
Loading...