ترک سوشل میڈیا کی پاکستان اور عمران خان سے بھرپوراظہاریکجہتی

0 11,821

پاکستان کی اندرونی سیاست پر ترکی کی عوام کی جانب سے بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ گذشتہ روز سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان ترکی کے ٹوئٹر ٹرینڈ پر چھائے رہے۔ ترکوں کی جانب سے اس موقع پر پاکستان اور خصوصاً عمران خان سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ تاہم سرکاری سطح پر اس سلسلے میں سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے. پاکستانی پارلیمںٹ میں تحریک اعتماد کی ووٹنگ سے قبل اور بعد میں ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے تبادلہ خیال کیا۔

یہ اس پس منظر میں ترک عوام کے لیے اہم ہے کہ موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک پالیسی تھنک ٹینک میں یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ترک اپوزیشن کی مدد سے ترک صدر ایردوان کو اقتدار سے الگ کر دیں گے کیونکہ ان کی پالیسی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ترک عوام اور خواص نے پاکستان کی صورتحال کا بخور جائزہ لیتے رہے اور اظہار یکجہتی کرتے پائے گئے۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایردوان کے حامی سنئیر صحافی ابراہیم کاراگل نے اس صورتحال پر دو ٹویٹس کیں اور سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان سے منسوب بیانات شئیر کئے جس میں کہا گیا کہ

پاکستانی وزیراعظم عمران خان؛ "میں نہ کسی کے سامنے جھکوں گا اور نہ ہی اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکاؤں گا”۔ "ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ پاکستان میں امریکی اڈے یا پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف اپنی سرزمین سے کارروائی کی اجازت دی جائے”۔ امریکہ پاکستان میں بھی ختم!”

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ "امریکہ پاکستان میں بغاوت پیدا کر رہا ہے! امریکہ نے 2001 میں ایک فون کال کے ذریعے پرویز مشرف سے پاکستان لے لیا تھا۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ "ہم آپ کے ملک کو پتھروں کے دور میں پہنچا دیں گے”۔ آج پھر امریکہ عمران خان کو اسی طرح دھمکیاں دے رہا ہے۔ لیکن دنیا اب 2001ء والی دنیا نہیں رہی ہے”۔

ایک ترک شہری امینے میدلیس نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "امریکہ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے نجات کے لیے منصوبہ بندی کی۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ ترکی میں کر رہا ہے۔ اور آج یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ لیکن عمران خان نے خود پاکستانی پارلیمنٹ تحلیل کر دی اور خان نے 90 دن کے اندر نئے انتخابات کا اعلان کیا۔ الحمد للہ عمران خان”۔

ترک حکومتی اتحادی ملیت حرکت پارٹی کے بورصا سے رکن پارلیمنٹ نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "وہ جو 15 جولائی کو ترکی میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے، انہوں نے اسی جیسا ایک کھیل پاکستان میں کھیلا۔ امریکہ اور برطانوی اتحاد نے اس بار اعلان کیا کہ ‘عمران خان پاکستان کے وزیراعظم نہیں رہیں گے’۔ پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی ہے۔ ابھی مزید بہت کچھ پاکستان میں ہو سکتا ہے”۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک اور ترک صارف نے عمران خان کا بیان شئیر کرتے ہوئے کہا ان کے بیان کی تعریف کی جس میں لکھا تھا کہ مجھے امریکہ سے دھمکی آمیز خط ملا ہے لیکن میں کھڑا رہوں گا۔

ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ ہماری سائیڈ واضع ہے، ہم امریکہ اور اس کے حواریوں کے مقابلے میں پاکستانی عوام اور منتخب وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایک ترک شہری بہادر تیکین نے لکھا ہے کہ ہمارے برادر ملک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان: امریکہ نے مجھے ایک دھمکی آمیز خط بھیجا ہے۔ وہ میرے خلاف اپوزیشن کو متحد کر رہے ہیں اور مجھے اقتدار سے الگ کر کے رجیم تبدیل کرنا چاہتے ہیں”۔۔۔ ” ہم ہٹوں گا نہیں، میں لڑوں گا”۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہماری جدوجہد آزادی میں آپ لوگوں نے جو مدد کی تھی وہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔

مورات اوزیر نے عمران خان کا بیان ٹویٹ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے بغاوت کی اس کوشش کے مدمقابل وہ حضرت حسین علیہ السلام کی طرح لڑیں گے، باطل کے مقابلے میں حق کی فتح ہو گی۔

ایک ترک خاتون صارف آبرو آکار نے لکھا ہے کہ امریکہ پاکستانی وزیراعظم/ عمران خان کے مقابلے کیوں بغاوت تیار کر رہا ہے؟۔۔۔ ان تمام سوالوں کا جواب اس انٹرویو میں ہے۔

نسلیحان یلدرم نے بھی عمران خان کا بیان شئیر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ "میں نہ کسی کے سامنے جھکوں گا اور نہ ہی اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکاؤں گا”۔ "ہم آپ کے ساتھ ہیں”۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ووٹنگ سے قبل ہی مسترد ہوگئی کیونکہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا جس کے بعد اپنی قوم سے خطاب میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔

صدر پاکستان عارف علوی نے فوری طور پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا۔ جبکہ دوسری طرف کابینہ ڈویژن نے بھی وزیر اعظم عمران خان نیازی کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: