ترکی اسٹاک ایکسچینج کی قدر 2019ء میں 185 ارب ڈالرز تک پہنچی

0 253

‏2019ء‎ میں منافع کے خواہشمند سرمایہ کاروں نے بڑے خطرے مول لیتے ہوئے عالمی اسٹاک مارکیٹس میں کل 17.5 ٹریلین ڈالرز کا اضافہ کیا، جس میں ترک اسٹاک ایکسچینج نے بھی پہلی ششماہی میں حالات سخت ہونے کے باوجود نمایاں طور پر ایک منافع بخش سال کا تجربہ اٹھایا۔

ورلڈ فیڈریشن آف ایکسچینجز کے مطابق اس سال کے دوران کئی ایسی پیشرفتیں ہوئیں کہ جنہوں نے پورٹ فولیو تقسیم اور سرمایہ کاروں کے فیصلے کو متاثر کیا، البتہ عالمی اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ کی قدر 92 ٹریلین ڈالرز تک جا پہنچی جبکہ بورصہ استنبول اسٹاک ایکسچینج (BIST) کی قدر سالانہ 23.9 فیصد اضافے کے ساتھ 184.97 ارب ڈالرز تک گئیں، جو پچھلے سال 149.26 ارب ڈالرز تھیں۔

عالمی مالیاتی ادارے کی اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے مالیاتی منڈیاں چین اور امریکا کے مابین تجارتی مذاکرات، بریگزٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والے ڈیڈلاک، عالمی اقتصادی نمو میں سست روی کے رحجان اور ساتھ ساتھ اہم عالمی سیاسی خطرات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ان کی وجہ سے سرمایہ کار نسبتاً خطرات اثاثوں سے دوری اختیار کر رہے ہیں جبکہ بونڈ مارکیٹ میں آمدنی بھی کم ہوتی دیکھی گئی۔ مارکیٹوں کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے توسیعی مالیاتی پالیسیوں کی واپسی کا اشارہ دیا، جن میں امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپین سینٹرل بینک شامل ہیں۔

اسٹاک مارکیٹوں کے معاملے میں سرمایہ کاروں نے جغرافیائی و سیاسی حالات کے باوجود اپنے زیادہ خطرے کے حامل اثاثوں کو محفوظ رکھا کہ جو اقتصادی اشاریوں پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

حال ہی میں جاری کردہ WFE کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2019ء میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن آغاز میں 74.4 ٹریلین ڈالرز سے شروع ہونے کے بعد سال کے اختتام پر 91 ٹریلین ڈالرز ہو گئی۔ ایک سال میں ہی اسٹاک مارکیٹوں نے اپنی قدر میں 23.5 فیصد اضافہ کیا اور 17.49 ٹریلین ڈالرز تک پہنچی۔

‏2019ء‎ کی پہلی ششماہی میں یورپی، افریقی اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں نے بہترین کارکردگی پیش کی کہ جہاں 31.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا اور کل مالیت 21.43 ٹریلین ڈالرز تک گئی۔

ترک اسٹاک ایکسچینج نے بھی کافی منافع بخش سال دیکھا حالانکہ پہلی ششماہی میں حالات نسبتاً خراب تھے، لیکن بالآخر 185 ارب ڈالرز کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن حاصل کی۔

تبصرے
Loading...