انقرہ میں "یومِ سیاہ” پر خصوصی تقریب، ترکی کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کی حمایت کا اعادہ

0 574

انقرہ میں آج پاکستانی سفارت خانے میں منعقدہ تقریب کے دوران ترکی نے مسئلہ جموں و کشمیر پر اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اس تقریب میں ترک پارلیمنٹ میں ترکی-پاکستان فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین جناب علی شاہین مہمانِ خصوصی تھے۔

اس موقع پر ڈپٹی ہیڈ آف مشن جناب ارشد جان پٹھان نے صدر اور وزیر اعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔ پاکستانی قیادت نے اِس مسئلے کے کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل تک کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی و سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔

رکن پارلیمان علی شاہین نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ "کشمیر ایک ‘کھلی جیل’ بن چکا ہے کہ جہاں ہر 9 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے اور ہزاروں کشمیری اپنی جانیں دے چکے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ "زمین پر جنت کہلانے والا خطہ کشمیر اب ایک جہنم بن چکا ہے اور یہ اقوامِ عالم کے لیے غور و فکر کا وقت ہے۔” علی شاہین نے مغربی دنیا پر زور دیا کہ وہ اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے بھارت کے قبضے میں موجود کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کرے۔

علی شاہین نے کہا کہ "جیسا کہ صدر رجب طیب ایردوان نے فروری میں پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام نے چناق قلعہ کی جنگ میں ہماری مدد کی تھی، اب ہماری باری ہے کہ ہم پاکستان اور کشمیر کے عوام کی مدد کریں۔” انہوں نے زور دیا کہ ترک قوم کی حیثیت سے ہم بدستور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ رہیں گے۔” انہوں نے زور دیاکہ جب تک مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل نہیں ہو جاتا ترکی کی حمایت جاری رہے گی۔

ترکی کے لیے پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 27 اکتوبر "یومِ سیاہ” کی حیثیت سے منایا جا رہا ہے جو 1947ء کا وہ منحوس دن تھا جب بھارتی افواج بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روندتے ہوئے ہوئے وادی میں اُتریں اور سری نگر پر قبضہ کیا۔ کشمیریوں کے لیے ظلم کی طویل رات کے آغاز اسی دن ہوا تھا اور یہ عظیم انسانی المیہ آج بھی جاری ہے۔

سفیر نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اپنے ‘ہندوتوا’ ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس خطے کے آبادیاتی اعداد و شمار بدلنے کا ہدف رکھتی ہے۔ بھارت بین الاقوامی انجمنوں کو مقبوضہ علاقے تک رسائی کی اجازت نہیں دے رہا ہے اور حال ہی میں اس نے انگریزی روزناموں ‘کشمیر ٹائمز’ اور ‘کشمیر نیوز سروس’ کو بھی بند کیا ہے۔

سفیر قاضی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خود اِرادی کے استعمال کا موقع دے۔ انہوں نے جموں و کشمیر تنازع پر اصولی مؤقف اور مسلسل حمایت پر ترکی کے عوام اور قیادت کی جانب سے شکریہ ادا کیا، خاص طور صدر ایردوان کا کہ جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے دوران بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا تھا۔

ترک طالبہ نصیبہ یواش نے بھی اس موقع پر اپنی تقریر کی، انہوں نے گزشتہ روز پاکستان کی وزارت امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے کشمیر کے موضوع پر کروائے گئے تقریری مقابلے میں انعام جیتا تھا۔

اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ترک این جی او جان سویو کی جانب سے ایک تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔

استانبول کی میڈیپول یونیورسٹی نے ایک زُوم کانفرنس کا علیحدہ انعقاد کیا جس کا موضوع "کشمیر کا یومِ سیاہ، ماضی اور حال کے درمیان” تھا۔

تبصرے
Loading...