ترک نوجوان نائیجیریا میں 10,000 عینکیں تقسیم کریں گے

0 218

استنبول کی تزلا بلدیہ کے تحت کام کرنے والے ایک مرکزِ نوجوانان نے نائیجیریا میں امراضِ چشم کے شکار افراد کو عینکوں کی فراہمی کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے، کیونکہ وہاں آنکھوں کے امراض خاص طور پر سفید موتیا، عام ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ہزاروں عینکیں افریقہ بھیجی جائیں گی اور رضاکار ڈاکٹرز مفت آپریشنز بھی کریں گے۔

بر اعظم افریقہ میں سفید موتیے کی بڑھتی ہوئی شرح سے نمٹنے کے لیے تزلا میونسپلٹی یوتھ سینٹر (TUZGEM) اور رضاکار ڈاکٹرز ایک خیراتی منصوبے کے آغاز کے لیے اکٹھے ہوئے، جس کے ذریعے سینٹر کے طلبہ نے ملک بھر سے 10,000 عینکیں جمع کیں، جو زیادہ تر سوشل میڈیا مہم کے ذریعے جمع کی گئیں۔

عینکیں ترکی کے خیراتی ادارے رضاکار انجمن برائے دیہی صحت و تعلیم (BISEG) کے ذریعے افریقی ممالک کو بھیجی جائیں گی۔ 15 روزہ دورے میں رضاکار ڈاکٹر سفید موتیے کے 800 آپریشنز کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔

تزلا کے نائب میئر اور اس منصوبے کے بانی طورغت اوزجان نے کہا کہ وہ ہر سال افریقہ جا رہے ہیں اور اس لیے مرکز کے طلبہ اس منصوبے کے لیے ان کے پاس آئے۔ "جب رضاکارانہ خدمات کا معاملہ ہو تو وہ ایسے منصوبوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں جن کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے،” انہوں نے طلبہ کے بارے میں کہا۔

BISEG کے چیئرمین ابراہیم جیلان نے کہا کہ 14 سال سے وہ بر اعظم افریقہ میں امداد کر رہے ہیں، جہاں کچھ جگہوں پر تو عینک ایک قیمتی شے ہے۔ "سفید موتیا افریقہ کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ نسوانی امراض ہیں۔ ہم افریقہ میں صحت کی تمام خدمات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

طلبہ شہدا کوجامن اور امرے فیدان نے کہا کہ وہ اس منصوبے کا حصہ بننے پر بہت خوش ہیں، جس کے لیے انہیں ترکی بھر سے بہت مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ "مرکز میں عینکوں کی آمد اب بھی جاری ہے اور اب وہ انہیں جمع کرکے اگلے سال افریقہ لے جا رہے ہیں۔”

تبصرے
Loading...