حملہ ترکانہ، عفرین کی مثالی فتح – محمد شاکر

0 1,448

دنیا کے کسی بھی جنگ کا منطقی نتیجہ تباہی و بربادی ہی رہی ہے , قرآن نے اس حقیقت کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ "جب کوئی بادشاہ کسی ملک کے اندر داخل ہوتا ہے تو وہ فساد برپا کرتا ہے”، سورہ قریش میں اللہ نے قریش پر دو انعامات کا ذکر کیا ہے کہ "ہم نے تم لوگوں کو بھوک میں کھانا اور خوف میں امن دیا”۔

موجودہ دور میں جنگیں اور بھی تباہ کن ثابت ہوئی ہے کہ دونوں طرف سے دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ کے بڑے بڑے ڈپو استعمال کئے جاتے ہیں , امریکہ نے بغداد میں اور روس نے حلب میں چند خود ساختہ دہشت گردوں کو مارنے کے لئے پوری کی پوری آبادی کو مٹا دیں اور بلند عمارات  تباہ کر دیں , یہ جنگ کا وہ شیطانی نظریہ ہے یورپ اور نیٹو جس کے علمبردار ہے۔

اسلام  نے جنگ کے جو اصول بیان کئے ہیں اسمیں بچے اور عورت پر ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے سبز درخت کو کاٹنے سے بھی منع کیا گیا ہے، ترکی نے اپنی سالمیت کی خاطر اور امریکی اسلحے سے لیس پی کے کے کی شامی شاخ وائے پی جی کے دہشت گردوں کے خلاف دو ماہ پہلے 20 جنوری کو شام کے صوبہ عفرین میں "آپریشن شاخ زیتون” کے نام سے ایک بہت بڑا اور منظم آپریشن شروع کیا تھا جو کل اللہ کے فضل و کرم سے بغیر کسی بڑی تباہی کے اختتام کو پہنچا، اس آپریشن میں شام کی آزاد شامی فوج بھی ترک افواج کے ہمراہ تھی، اس آپریشن میں 273 مقامات، 229 گاوں، 5 ٹاون سنٹرز اور 44 پہاڑوں اور غاروں کا صفایا کرنا تھا جو اسلام کے تصور جنگ کے عین مطابق کر دیا گیا۔

ترک فوج اگر چاہتی تو دو تین دنوں میں شہر کے شہر مٹا دیتی اور آگے بڑھتی لیکن پھر رحمانی قوتوں اور شیطانی قوتوں کے درمیان فرق مٹ جاتا , اس منظم اور شارپ آپریشن میں تقریبا چار ہزار وائے پی جی دہشت گردوں کو مارا گیا اور 46 ترک اور 128 آزاد شامی فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا۔

یہ جدید عسکری تاریخ کی پہلی کامیابی ہے کہ جس میں ٹارگٹ کو بہت ہی منظم طریقے سے حاصل کیا گیا، کسی اسکول , ہسپتال , کالج یا دیگر عمارت کو نقصان تک نہیں پہنچایا گیا، اقبال ؒ نے پیشن گوئی تھی کہ اسلامیوں کو ترکوں جیسی شان و شوکت اور رعب و دبدبہ دوبارہ ملنے والی ہے۔

عفرین کے منظم آپریشن نے اس پیشن گوئی پر میرے یقین کو مزید پختہ کیا، اللہ سے دعا ہے کہ اس ترک فوج کے اندر وہ عثمانی روح پھر آ جائے جسکے طفیل اس عظیم قوم نے پانچ سو سال تک امت کی قیادت کی تھی، اقبال ؒ  نے سچ ہی کہا تھا

یا عقل کی روباہی یا عشق ید اللہی

یا حیلہ افرنگی یا حملہ ترکانہ

یہ ” حملہ ترکانہ ” کا دور ہے، یہ ترکوں کی عثمانیت کا دور ہے۔

تبصرے
Loading...