ترکستان ایک مرتبہ پھر پوری انسانیت کی توجہ اور روشن خیالی کا مرکز بنے گا، صدر ایردوان

0 565

ترکش کونسل کے 8 ویں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکش کونسل کا نام ترک ریاستوں کی انجمن کر دیا گیا تھا، اور کہا کہ "اپنے نئے نام اور ڈھانچے کے ساتھ ہم تیز تر انداز میں ترقی پائیں گے، پھلیں پھولیں گے اور مضبوط تر ہوں گے۔ ان شاء اللہ جلد ہی سورج ایک مرتبہ پھر مشرق سے طلوع ہوگا۔ ترکستان کا خطہ، جو ہزاروں سال تک تہذیب کا گہوارہ رہا ہے، ایک مرتبہ پھر پوری انسانیت کی توجہ اور روشن خیالی کا مرکز بنے گا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ترکش کونسل کے 8 ویں اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، جو ” ڈجیٹل دور میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور اسمارٹ شہروں” کے موضوع پر منعقد ہوئی۔

"ہماری کونسل اب ترک ریاستوں کی انجمن کہلائے گی”

شرکا کا شکریہ ادا کر کے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہماری یہ کونسل جو بین الاقوامی سطح پر ایک معتبر ادارہ ہے، اپنی سرگرمیاں نئے نام سے جاری رکھے گی۔ اب سے اس کونسل کا نام ترک ریاستوں کی انجمن ہوگا۔”

ہفتے کے آغاز پر قرہ باخ کی آزادی کے ایک سال مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے طیب ایردوان نے کہا کہ "میں ایک مرتبہ پھر آذربائیجان کے تمام بھائیوں اور بہنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر صدر علیف کا۔ یہ کامیابی، جو میرے عزیز بھائی کی قیادت میں آذربائیجان نے حاصل کی، نے پوری ترک کونسل کے لیے باعث فخر ہے۔”

اس امر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ قرہ باخ کی عظیم فتح کی قیادت کرنے والے صدر علیف کو ترک دنیا کی جانب سے خراج تحسین کے طور پر اجلاس کے موقع پر سپریم آرڈر آف ٹرکش ورلڈ سے نوازا گیا تھا، صدر ایردوان نے کہا کہ "اجلاس کے دوران ہم نے اپنی اے کونسل کی چیئرمین شپ آذربائیجان کے حوالے کی۔ میں آذربائیجان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جس نے وبا کی بدولت مشکل حالات کے باوجود چیئرمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کیں۔”

"کوئی سرحد بھائیوں کو جدا نہیں کر سکتی”

صدر ایردوان نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اپنے نئے نام اور ڈھانچے کے ساتھ ہم تیز تر انداز میں ترقی پائیں گے، پھلیں پھولیں گے اور مضبوط تر ہوں گے۔ ان شاء اللہ جلد ہی سورج ایک مرتبہ پھر مشرق سے طلوع ہوگا۔ ترکستان کا خطہ، جو ہزاروں سال تک تہذیب کا گہوارہ رہا ہے، ایک مرتبہ پھر پوری انسانیت کی توجہ اور روشن خیالی کا مرکز بنے گا۔”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ایسی کوئی سرحد نہیں جو بھائیوں اور بہنوں کو ایک دوسرے سے جدا کر سکے، جو ایک ہی روحانی ذریعے سے فیض حاصل کرتے ہیں، جو مشترکہ ماضی، ثقافت اور آبا و اجداد رکھتے ہیں۔ ہم آج کو ترک دنیا کے لازوال بھائی چارے میں ایک نئی علامت سمجھتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...