ترکی دہشتگردوں سے لڑ رہا ہے کردوں سے نہیں، عفرین آپریشن سے پیچھے نہیں گے، ایردوان

0 1,023

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، کردوں کے خلاف نہیں۔ اور عفرین میں پی کے کے سے منسلک وائے پی جی کے خلاف آپریشن سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ترکی کا شامی علاقے عفرین میں آپریشن شاخِ زیتون تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے اور وائے پی جی کی ٹویٹ میں سینکڑوں دہشتگردوں کی اموات کا اقرار کیا گیا ہے۔

ترک صدر نے کہا، "ہم پُر عزم ہیں، عفرین کا معاملہ حل کر دیا جائے گا۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم نے اس کے بارے اپنےدوست روس سے بات کی تھی۔ ہمارے پاس ایک معاہدہ ہے”۔

ایردوان نے مزید کہا، "ہم بحیثیت ترکی ایسی کوئی سوچ نہیں رکھتے کہ کہیں قبضہ کریں، ہمارا صرف ایک ہی ہدف ہے ۔۔۔ دلوں کو فتح کرنا”۔

انہوں نے واشنگٹن میں موجود سرکاری عہدیداران کی بے صبری پر تنقید کی جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کی مدت کا واضع تعین کیا جائے۔

رجب طیب ایردوان نے کہا کہ آپریشن اس وقت ہی ختم ہو گا "جب اس کے اہداف حاصل ہو جائیں گے”۔

انہوں نے کہا، "آپ کتنے عرصے سے افغانستان میں ہیں؟ کیا عراق میں آپ کا معاملہ ختم ہو گیا؟” ترک صدر نے 2001ء اور 2003ء کی امریکی ملٹری مداخلتوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ دوغلہ پن آشکار کیا۔

ایردوان نے واضع کیا کہ ان جنگوں میں کوئی ریاضی نہیں چلتی۔ تم ہم سے پوچھ کیسے سکتے ہو؟ ہم تب تک وہاں رہیں گے جب تک ہم چاہیں گے۔ البتہ وہاں مستقل طور پر ڈیرہ جمانے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے اسے کب چھوڑنا ہے۔

 

تبصرے
Loading...