"ترکی جدید دنیا میں بطور مسلمان زندہ رہنے کے لیے ایک ماڈل ملک ہے”

0 2,018

شعلے البیراک، مذہبی سماجیات کی ایک ماہر ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ترکی میں 1997ء کے مارشل لاء کے بعد جس کا ہدف مسلمان تھے، انہیں ایک ایسی سکسیس اسٹوری دی جو بتاتی ہے کہ جدید دنیا میں ایک مسلمان کے طور پر کیسے زندہ رہنا ہے جہاں مذہب کا استحصال کرنے والے دہشتگرد گروہ بھی موجود ہیں۔

البیراک کہتی ہیں کہ ترکی نے 1997ء کے مارشل لاء کے بعد "وجوبی جدیدیت” کو چیلینج کیا اور سماج میں نیک پارسا اور سیکولر، حجاب کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کی تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ وہ کہتی ہیں کہ "ترکی ایک اہم مثال پیش کی ہے کہ اس جدید دنیا میں مسلمان اپنی اقدار کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں”۔ البیراک کے بقول ایک مثبت تبدیلی کا کریڈٹ آق پارٹی کو جاتا ہے جس نے ترکی کو "جمہوری سیکولرازم” کے راستے پر ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجب طیب ایردوان کی قیادت ہے جس نے استبدانہ سیکولر ازم کو جمہوری سیکولر ازم اور سماجی حرکیات کے ساتھ تبدیل کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ سیاسی سطح پر اس جابرانہ سیکولر ازم کے موید مزاحمت کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ترکی میں اس وقت کوئی طبقاتی تقسیم اور کشمکش موجود نہیں ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں رہا اور حکومت پورے سماج کی خدمت کر رہی ہے۔

شعلے البیراک، استنبول کی مرمرہ یونیورسٹی میں شعبہ الہیات میں لیکچرر اور مذہبی سماجیات پر ایک ماہر ہیں۔ انہوں نے ترکی کے ایک اہم تھنک ٹینک سیتا (SETA) کے میگزین کو انٹرویو دیا ہے۔

ترکی کی اشرافیہ کلاس نے فرانسیسی ماڈل لیسزم کو سیکولرازم میں ترجیح دی کیونکہ البیراک کے بقول یہ انہیں عثمانی ترکے سے فاصلے پیدا کرنے میں معاون بنتا تھا۔ انہوں نے کہا، "اسلام عثمانیوں کا مرکزی حصہ تھا اور اس سے پیٹھ موڑنے کا مطلب اسلام اور بلخصوص اسلام کے ریاستی نظریہ (ماضی میں) کو مسترد کرنا تھا”۔ تاہم فرانسیسی لیسزم کے مقامی ورژن نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتنا شروع کر دیا۔ البیراک کہتی ہیں کہ سیاست کی روح میں آمرانہ سیکولرازم رکھ دی گئی اور سیکولر اشرافیہ نے اس ریاستی امتیازی رویوں کو قانونی شکل دے دی جن کی بنیادیں ان کے نظریے میں پیوست تھیں۔

اسلام کی جڑیں عثمانی ریاست میں بہت گہری تھیں، انہیں اکھاڑنے اکھاڑتے ترکی کی سیکولر اشرافیہ نے سیکولر ازم کے بظاہر نرم ماڈل کو اختیار میں کمزوری محسوس کی۔ حالانکہ اُس وقت امریکہ کا سیکولر نظام مذہب اور ریاست کے درمیان ٹکراؤ کو روکنے میں کامیاب رہا تھا۔ نتیجتا، ترکی میں اسلام کے ساتھ جڑی عوام اور ریاست کے درمیان چپقلش کئی دہائیوں تک جاری رہی۔

البیراک نے ترکی زبان میں اذان کے حکم نامے، مسلمانوں کو ان کا لباس پہننے پر پابندی اور مذہب کے ساتھ جڑی کسی بھی چیز کو "فرسودہ اور جذباتی” سمجھنے کی روش کو اس عہد کے ظالمانہ اقدامات قرار دیا۔

اس صورتحال نے مسلم اکثریتی ملک میں سماجی انتشار پیدا کر دیا۔ جیسا کہ دوسرے آمرانہ نظام رکھنے والے ممالک میں ہوتا آیا ہے۔ البیراک نے اس موقع پر مسلمانوں کے بہتر رویے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ "وہ ریاست کے خلاف دشمنی پر نہیں اترے”۔ انہوں نے کہا، "لوگ جانتے تھے کہ ریاست کٹھ پتلی کرداروں کے چنگل میں ہے اور جب ان کا خاتمہ ہوا انہیں مذہبی آزادی میسر آ جائے گی، حتی کہ ایسے وقت پر بھی جب نیکوکاروں پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا تھا اور سماجی تحریک تشدد میں بدل سکتی تھی”۔

البیراک کہتی ہیں کہ "آج، ہم مذہب کے میدان میں تبدیلی کے تیز رفتار راستے اور زیادہ متنوع اور مختلف سماجی طبقات اور گروہوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جن میں انتہاء پسندوں سے روایتی سوچنے والے موجود ہیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہ رہے ہیں”۔ وہ کہتی ہیں کہ ترکی دیگر مسلم ممالک سے الگ ہے جہاں یا تو شدت پسند لبرل ازم ہے یا پھر شدید بنیاد پرست مذہبی گروہ سماج پر چھائے ہوئے ہیں البتہ معاشرے کی اکثریت ان انتہائی گروپوں کے بجائے کسی وسطی مذہبی تفہیم کی پیروی کرتی ہے۔ البیراک جہاں یکسو ہیں کہ ترکی کی اس اکثریت کی سوچ کو یہ دو انتہائیں نہیں بدل سکتیں وہیں اپنے خدشات کا اظہار کرتیں ہیں کہ یہ گروہوں سوشل میڈیا اور جدید ابلاغی ذرائع کے ذریعے پروپیگنڈا کرتے ہیں جس سے سماجی انتشار کو ہوا ملتی ہے۔ "ہمارے سماجی ڈھانچے کو اگر کوئی چیز نقصان پہنچا سکتی ہے تو یہی دو چیزیں ہیں”۔

تبصرے
Loading...