پاکستان و ترکی کے تعلقات اور سیکھنے کے مواقع – ڈاکٹر وقار یوسف

0 548

وقار یوسف عظیمی معروف قلم کار، صحافی، روحانی دانشور اور ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مدیر، پاکستان کے معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کے صاحبزادے ہیں وہ روزنامہ جنگ پاکستان کے باقاعدہ کالم نگار ہیں جبکہ ان کی تحریریں پاکستان کے دیگر اخبارات و رسائل میں بھی شائع ہوتی ہیں

کہتے ہیں کہ ڈپلومیسی کی دنیا میں اخلاص و مروت نہیں بلکہ صرف مفادات کی بالادستی ہوتی ہے لیکن اکثر پاکستانی یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں دو ممالک پاکستان کے مخلص دوست ہیں۔ ایک عوامی جمہوریہ چین اور دوسرا جمہوریہ ترکی۔ چین اور پاکستان کی دوستی کا آغاز کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے چیرمین ماؤزے تنگ کی قیادت میں 1948ء میں چین کے عوامی جمہوریہ بننے کے فوراً بعد شروع ہوگیا تھا۔ ترکی اور برصغیرکے مسلمانوں کے درمیان قلبی تعلق البتہ قیامِ پاکستان سے پہلے کا ہے۔ ترکی مسلمانوں کی پرشکوہ سلطنت کا مرکز تھا۔ یہ سلطنت افریقہ ، یورپ اور مشرق وسطیٰ سے لے کر وسطی ایشیائی ریاستوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ترک مسلمانوں نے اپنی حکومت کو خلافت کا لقب دیا تھا۔ یہ حکومت 1299ء میں ایک ترک مسلمان جاگیردار عثمان نے قائم کی تھی۔ اس کا نام عثمانی حکومت یا خلافت عثمانیہ پڑ گیا۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد خلافت عثمانیہ میں یورپ کی طرف توسیع شروع ہوگئی۔ ترک حکمرانوں کو یورپین افواج سے زیادہ مشرقی یورپ کے سرد موسم کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم عثمانی سلطنت افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیاء کی طرف وسیع ہوتی رہی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد تبدیل شدہ عالمی حالات حکومت عثمانیہ کے لئے انتہائی خطرناک تھے۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک خلافتِ عثمانیہ کی طاقت اور اثر و رسوخ ختم کردینا چاہتے تھے۔ اس دور میں برِصغیر برطانیہ کی کالونی تھا۔ اس کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کے حق میں آواز بلند کرکے ایک بڑی تحریک شروع کی۔ پہلی عالمی جنگ میں جرمنی اور برطانیہ ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔ اس جنگ میں سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ حجاز، عراق اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی علاقوں میں واقع مسلمانوں کے مقدس مقامات سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ انتظام تھے۔ ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت تھی۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے سوچا کہ اگر برطانیہ اس جنگ میں کامیاب ہوتا ہے تو صرف جرمنی ہی نہیں بلکہ جرمنی کے حمایتی ترکی سے بھی بدلہ لیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے عوام انگریز کے تابع تھے، انہیں جنگ میں برطانیہ کی طرف داری کرنا تھی۔ تاہم مسلمانانِ ہند نے مطالبہ کیا کہ جنگ میں کامیابی کی صورت میں برطانیہ خلافتِ عثمانیہ کو نہیں چھیڑے گا۔9

جولائی 1919ء برطانیہ کی کالونی ہندوستان کے شہر بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم کی گئی۔ سیٹھ چھوٹانی خلافت کمیٹی کے صدر اور جامی صدیق کھتری سیکرٹری منتخب ہوئے۔ خلافت کمیٹی کے تین بڑے مطالبات مندرجہ ذیل تھے۔

-1خلافتِ عثمانیہ کو برقرار رکھا جائے۔

-2مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ ترکی کی تحویل میں رہیں۔

-3ترک سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔

ہندوستان کے مسلمانوں نے برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ لائڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی۔ بعد میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کردیں۔ برطانیہ کو اس کے وعدے یاد دلوانے کے لئے ہندوستان کے مسلمانوں نے مہم کا آغاز کیا۔ بعد میں محمد علی جوہر اور ان کے بھائی شوکت علی نے بھی اس تحریک میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ اس وقت کیے گئے وعدوں کو محض سیاسی سمجھتے ہوئے برطانیہ نے ان کی پاسداری نہ کی اور سلطنت عثمانیہ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیاگیا۔ ترکوں نے خود بھی خلافت عثمانیہ ختم کرکے ترکی کو ایک جمہوری ملک قرار دے دیا لیکن ترکی کے عوام سو سال پہلے خلافت کے لئے انتہائی مشکل حالات میں مسلمانانِ ہند کی حمایت آج بھی یاد رکھے ہوئے ہیں۔پاکستانیوں کے لئے ترکی کے عوام کے دلوں میں موجزن محبت کی بنیادیں سو سال پرانی ہیں۔ ترکی کے مختلف شہروں میں راہ چلتے کتنے ہی نوجوان ترک ایسے ملتے ہیں جنہیں پتہ چلے کہ آپ پاکستانی ہیں تو وہ بہت محبت سے پیش آتے ہیں اور بعض لوگ تحریکِ خلافت کے دوران ترکی کے لئے مسلمانوں کے ایثار اور قربانیوں کی یادیں بھی تازہ کرتے ہیں۔

ترک اپنی روایات سے محبت کرنے والی اور اپنی تاریخ اور آثار کی حفاظت کرنے والی قوم ہے۔ 1924ء کے بعد ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت ایک سیکولر حکومت قائم ہوئی۔ کمال اتا ترک کے بعد حکمرانی کرنے والے انتہائی سخت گیر عصمت انونو کے دور میں تو ترکی میں مساجد کو بند کردیا گیا۔ لیکن اس دور میں بھی حکومت نے اپنے تاریخی آثار کی حفاظت جاری رکھی۔

یورپ کا مردِ بیمار ترکی آج دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہوکر G-20گروپ کا حصہ ہے۔ 2015 میں G-20کی سربراہ کانفرنس ترکی کے شہر انطالیہ میں منعقد ہوئی۔ جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان بہت وقار اور احرام کے ساتھ غیر ملکی سربراہوں کی میزبانی کررہے تھے۔ ترکی سیاسی اور معاشی لحاظ سے ایک مستحکم ملک ہے۔ ترکی عالمی برادری میں انتہائی مستحکم ساکھ رکھتا ہے۔ ترکی کا رہن سہن یورپی اور ایشیائی امتزاج لئے ہوئے ہے۔ اسرائیل سمیت دنیا کے ہر ملک سے سفارتی تعلقات رکھنے والے مسلم ملک ترکی کو اسلامی ممالک میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ فوجی حکمرانی سے سول حکمرانی کی طرف جمہوری انداز میں سفرکا آغاز کرنے والے ترکی کے رہنما نجم الدین اربکان اور ان کے بعد رجب طیب اردگان دنیا بھر کے مسلمانوں خاص طور پر مسلم یوتھ میں بہت مقبول ہیں۔

طیب اردگان کو ترکی کے دائیں بازو یعنی اسلامی خیالات رکھنے والے ووٹرز نے منصب اقتدار تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے سیکولر ملک ترکی میں بعض اسلامی شعائر کی بحالی کیلئے بھی اقدامات کیے ہیں۔ تاہم طیب اردگان کی حکومت نے ترکی کے آئین کی بنیادوں اور ترکوں کے ملے جلے معاشرتی ڈھانچے کو نہیں چھیڑا ہے۔ طیب اردگان کی زیادہ توجہ ترکی کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ترکی کو ایک خوشحال اور مضبوط ملک بنانے پر مرکوز ہے۔ ترکی کی معیشت میں صنعت، زراعت، قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ سیاحت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ سیاحت کے ذریعے ترکی کو ہونے والی آمدنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوری تا اگست2017ء میں تقریباً دو کروڑ بیس لاکھ غیر ملکی سیاح ترکی آئے۔ ان میں سب سے بڑی تعداد روسی ریاستوں اور یورپی ممالک سے آنے والوں کی تھی۔ سیاحت کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں امن و امان کی حالت تسلی بخش ہو۔ آمدورفت کے لئے سڑکوں کا جال ہر طرف بچھا ہوا ۔ سڑکیں بہت اچھی حالت میں ہوں۔

ترکی کے پاس تیل، گیس اور بعض دوسری معدنیات کے خزانے نہیں ہیں جیسے کہ کئی خلیجی ریاستوں کے پاس ہیں۔ معیشت کی ترقی کے لئے ترکی عوام نے برسوں سخت محت کی ہے۔ آج ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر تیل کی دولت سے مالامال سعودی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ 2016ء میں ترکی کا جی ڈی پی 857 ارب ڈالر جبکہ سعودی عرب کا 639 ارب ڈالر رہا ۔ عالمی معیشت کی رینکنگ میں ترکی سترہویں نمبرپر تھا ،2016ء میں پاکستان 283 ارب ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ اکتالیسویں نمبر پر تھا۔ پاکستان کے پاس تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں ، پاکستان میں گندم، چاول، کپاس اور دیگر کئی اجناس کی شاندار فصلیں ہوتی ہیں۔ دودھ کی پیداوار میں ہم چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔ پاکستان کے پاس دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے انتہائی پرکشش قدرتی نظاروں سے بھرپور ہزار میل طویل ساحلی علاقے ، وسیع و عریض صحرا، پہاڑی،دریائی اور میدانی علاقے، انتہائی حسین وادیاں، دنیا کی بلد ترین برف پوش چوٹیاںہیں۔ ہمارے عوام نہایت مخلص اور محنتی عوام ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کمزور ہے اور ہم ایک غریب ملک کہلاتے ہیں۔ آیئے! اپنے برادر اسلامی ملک ترکی سے سیکھیں۔ معاشرے میں برداشت، رواداری، دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور خود محنت کرتے ہوئے ترقی کیسے کی جاتی ہے۔

تبصرے
Loading...