یورپ میں مقیم ترکوں کو منظم نسل پرستی کا سامنا ہے، وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو

0 189

وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ مغربی یورپ میں ترک تارکینِ وطن کو امتیازی پالیسیوں اور منظم نسل پرستی کا سامنا ہے۔

جرمنی کے مغربی شہر ڈوسل ڈورف میں ایک اجلاس کے دوران چاوش اوغلو نے کہا کہ "ہم مغربی یورپ میں ترک برادریوں کو درپیش بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک پر تشویش سے دوچار ہیں،” انہوں نے زور دیا کہ امتیازی اور نسل پرستانہ پالیسیوں بڑی حد تک منظم ہوتی جا رہی ہیں اور انہیں ان ملکوں میں مختلف سطح پر مختلف عہدیداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

وزیر خارجہ نے یورپ میں ترک برادریوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے یورپی شہروں میں کام کرنے والے ترک قونصل جنرلوں سے ایک خصوصی اجلاس میں ملاقات کی تاکہ قونصلر خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

چاوش اوغلو نے ترک سفارت کاروں پر زور دیا کہ وہ نسلی امتیاز، غیر ملکیوں سے نفرت کے واقعات اور مسلمان مخالف جرائم اور جملوں کے واقعات کو بہت اہمیت دیں اور شکار ہونے والے افراد کو بھرپور مدد فراہم کریں اور متعلقہ حکام کے روبرو اپنے خدشات اٹھائیں۔

"قونصل جنرل کی حیثیت سے آپ اپنے شہریوں سے ہی نہیں بلکہ جن ملکوں میں کام کر رہے ہیں ان کے سیاست دانوں سے بھی بات کریں۔ سیاسی رہنماؤں کو عقلِ سلیم کے ساتھ قدم اٹھانا چاہیے اور اختلاف پیدا کرنے والے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے اور مذہبی و نسلی اختلافات کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ طریقہ نفرت کا ایک ماحول جنم دیتا ہے کہ جو نسل پرست حملوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اپنی ملاقاتوں میں ان معاملات سے آگاہی فراہم کریں۔” انہوں نے کہا۔

یورپ کو حالیہ چند سالوں میں نسل پرستانہ اور اسلام مخالف واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا سامنا ہے کہ جنہیں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے سے تحریک ملی۔

انقرہ میں واقع تھنک ٹینک SETA کی رپورٹ کے مطابق 2018ء میں فرانس میں 676 مسلمان مخالف واقعات پیش آئے جو 2017ء کے 446 کے مقابلے میں 52 فیصد اضافہ ہے۔

آسٹریا میں پچھلے سال 540 مسلمان مخالف واقعات ریکارڈ کی گئے، جو 2017ء میں 309 تھے۔

جرمنی میں پولیس نے پچھلے سال مسلمانوں کے خلاف 819 نفرت انگیز جرائم ریکارڈ کیے جن میں گالیاں، دھمکی آمیز خطوط، مار کٹائی اور مساجد پر حملے شامل ہیں۔ 100 سے زیادہ مساجد اور مذہبی اداروں پر حملے کیے گئے۔

یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت اور 81 ملین افراد کا حامل ملک جرمنی 47 لاکھ مسلمان رکھتا ہے جو مغربی یورپ میں فرانس کے بعد دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے۔ اس میں 30 لاکھ ترک باشندے بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...