ترکی کا پرچم پھاڑنے والے یونانی رکن یورپی پارلیمان کے خلاف یورپی ترک سراپا احتجاج

0 160

یورپ میں مقیم ترک باشندے یورپی پارلیمانی کے ایک یونانی رکن کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کر چکے ہیں کہ جنہوں نے اجلاس کے دوران ترک پرچم پھاڑ دیا تھا۔
اپنے بیان میں ترکوں کی یونین آف انٹرنیشنل ڈیموکریٹس (UID) نے کہا ہے کہ اس نے یورپی پارلیمان میں کی گئی ایانس لاگوس کی اس حرکت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حرکت انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کی دفعہ 14 کی خلاف ورزی ہے۔UID نے لاگوس کو دیا گیا استثنیٰ بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
30 جنوری کو یورپی یونین کے ایک اجلاس کے دوران لاگوس نے ترکی پر اپنے ملک میں "مہاجرین کو بھیجنے” اور "من مرضی کرنے” کا الزام لگایا۔ اس کے بعد انہوں نے ترکی کا ایک کاغذی پرچم پھاڑ دیا اور اسے زمین پر پھینک دیا۔
لاگوس 2012ء سے 2019ء کے دوران یونان میں انتہائی دائیں بازو کی گولڈن ڈان پارٹی کے رکن پارلیمان رہے ہیں۔ یہ جماعت انتہائی دائیں بازو کی ہے اور نیو نازی اور فسطائی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ اس کا قیام اقتصادی بحران کے دوران ہوا جب یونان کساد بازاری، بے روزگاری اور بجٹ میں کٹوتی کے عمل سے گزر رہا تھا۔ اس پارٹی نے عام انتخابات میں تقریباً 7 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ یہ سیاسی جماعت مہاجرن کے خلاف ہے اور اس کے اراکین یونان میں مسلمانوں پر ہونے والے کئی حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
یونانی وزارتِ خارجہ، ترک وزیر ِ دفاع، ترک وزیرِ خارجہ اور یورپی پارلیمان میں ترک مبصر لاگوس کی اس حرکت کی مذمت کر چکے ہیں۔
اپنے ایک ٹوئٹ میں ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے لاگوس کو "بگڑا ہوا، نسل پرست” قرار دیا۔
یورپی پارلیمان کے صدر ڈیوڈ ساسولی نے بھی لاگوس کی حرکت پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تبصرے
Loading...