ترکوں کو ملکی بقاء کے لیے اہم معاملات پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ایردوان

0 412

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "82 ملین ترک شہریوں کو اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے مل جل کر ‘ترکی کے اتحاد’ کے لیے ان معاملات پر کام کرنا چاہیے کہ جن پر ملک کی بقاء کا انحصار ہے۔ ہمیں ایسے ترکی کے لیے اپنے بوجھ کو بانٹنا چاہیے جو اپنے شہریوں اور بھائیوں پر اعتماد رکھتا ہے۔”وہ کنفیڈریشن آف پبلک سرونٹس ٹریڈ یونین (میمور-سین) کی نئی سروس بلڈنگ کی افتتاحی تقریب اور مستقبل کے کاروباروں اور پیشوں کے حوالے سے خطرات اور مواقع پر ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

گزشتہ چند سالوں میں ترکی کے خلاف چلائی جانے والی کثیر جہتی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں اس کا پورا ادراک ہے کہ ترکی مخالف مہم کی حقیقی وجہ دراصل ہمارا وہ درست طرزِ عمل ہے جو ہم نے شام، فلسطین، یمن اور مصر کے معاملات اور بڑھتے ہوئے اسلام مخالف رحجانات اپنی حساسیت ظاہرکرکے اختیار کیا۔ ہم ان عالمی ناانصافیوں کے خلاف اپنی آواز جتنی بلند کریں گے، ایسے حملے اتنے ہی بڑھتے جائیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اور مہاجرین کے مسائل پر دہرے معیارات کو جتنا نمایاں کیا، ہمارے خلاف خبریں اتنی بڑھتی گئیں۔ پرانی عادت سے مجبور لوگوں کی جھنجھلاہٹ مزید بڑھتی ہے جب ہمارے لوگ اپنے مضبوط ارادوں، حریت پسندی، حقوق اور آزادانہ مزاج پر ڈٹے رہتے ہیں۔”

31 مارچ کو ہونے والے کامیاب انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ یہ انتخابات ایک بھرپور جمہوری ماحول میں منعقد ہوئے کیونکہ ترکی قانون کی حکمرانی رکھنے والی جمہوری ریاست ہے۔ بلاشبہ رائے کا اختلاف اور ان پر تنازع تھا لیکن کوئی بھی صورتحال اس امر میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی کہ ہماری جمہوریت بھرپور انداز سے اور کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔”

"ساڑھے 4 سال کا مسلسل عملی دور اب ملک کے سامنے ہے۔ 82 ملین شہریوں کے طور پر ہمیں اِس عرصے سے بہت کچھ حاصل کرنا چاہیے۔ ہمیں انتخابی بحثوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حقیقی ایجنڈے پر توجہ دینا ہوگی، سب سے پہلے معیشت اور امن و امان۔ اب ایک مرتبہ معاملات ٹھنڈے کرنے، ہاتھ ملانے، گلے ملنے اور اتحاد و یگانگت کو مضبوط کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمارا ہدف آئندہ ساڑھے 4 سال کے عرصے میں عوامی ترقی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ 2023ء کے لیے ترکی کے اہداف کو حاصل کرنا ہے، امن و امان اور آزادی کے درمیان توازن پیدا کرکے اور ملک کے خلاف خطرات کا خاتمہ کرکے۔”

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "82 ملین ترک شہریوں کو اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے مل جل کر ‘ترکی کے اتحاد’ کے لیے اُن معاملات پر کام کرنا چاہیے کہ جن پر ملک کی بقاء کا انحصار ہے۔ ہمیں ایسے ترکی کے لیے اپنے بوجھ کو بانٹنا چاہیے جو اپنے شہریوں اور بھائیوں پر اعتماد رکھتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے ملازمین، محنت کشوں، کاشت کاروں، صنعت کاروں اور تاجروں کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...