یورپ ترکی کے خلاف آئے روز نفرت اگلنے لگا، ترک آرمی چیف کی قابل اعتراض تصویر شائع کردی

0 348

ناٹو مشقوں کے دوران بابائے ترکی مصطفےٰ کمال اتاترک اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کو دشمن کی لسٹ میں ڈالنے کے بعد انٹرنیشنل سیکورٹی فورم نے ترکی پر ایک نیا سماجی حملہ کیا ہے جسے ترک سوشل میڈیا شدید تنقید کا نشانہ بنا کر ناکام بنا دیا ہے۔

ہالیفیکس انٹرنیشنل سیکیورٹی فورم کے آفیشیل ٹویٹر ہینڈل پر 9ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر ترک چیف آف آرمی کی وہ تصویر شائع کی گئی جس میں وہ فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم فیتو کی ناکام بغاوت کے دوران زدوکوب کیے گئے۔ ان کی گردن پر وہ نشان واضع طور پر نظر آ رہے تھے۔

 

یہ ٹویٹ سوموار کے دوپہر تک ٹویٹر اکاؤنٹ پر موجود رہی۔ جس کے بعد ترک سوشل میڈیا کے شدید ردعمل کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔

اس ٹویٹ پر ترکوں نے اعتراض اٹھایا کہ "کیا یہ بھی اتفاقی واقعہ ہے؟”۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آخر ایک انٹرنیشنل ایونٹ کےموقع پر ایک انٹرنیشنل سیکیورٹی ادارے کی طرف ایسی تصویر کا شائع کرنا کیا پیغام دیتا ہے کیا وہ اپنا ‘کارنامہ’ بتا رہے ہیں یا تذلیل کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوان کے نام اور ترکی کے بانی مصطفےٰ کمال اتاترک کی تصویر کو ناروے میں ہونی والی مشقوں کے دوران "دشمنوں کے چارٹ” میں شامل کر دیا گیا تھا۔ اور ناٹو سیکرٹری جنرل نے واقعہ کو اتفاقی اور انفرادی قرار دیتے ہوئے معافی مانگی تھی۔

تبصرے
Loading...