دو ملک، ایک قوم

ہلال قپلان

0 308

ہم پاکستان میں ہیں جو ان چند ملکوں میں ایک ہے جو برادرانہ اور دوست ملک کہلانے کا حقدار ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان چھٹے اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے ایک بڑا وفد لے کر آئے ہیں کہ جن میں چھ وزراء بھی شامل ہیں۔

ہوائی اڈے سے لے کر اس ہوٹل تک کہ جہاں صدرِ مملکت کی رہائش گاہ ہے، میلوں تک ہمیں صدر ایردوان اور پاکستانی وزیر اعظم کی تصویروں کے بڑے بڑے پوسٹرز نظر آئے کہ جن پر دو زبانوں میں لکھا تھا "دو ملک، ایک قوم۔”

ترکی-پاکستان تعلقات میں پچھلے سال دسمبر سے کچھ کھنچاؤ تھا، جب وزیر اعظم عمران خان آخری وقت میں کوالالمپور سمٹ میں شرکت سے دستبردار ہوئے، جو ملائیشیا میں ترکی، قطر اور ایران کی شرکت سے منعقد ہوئی تھی۔ البتہ صدر ایردوان نے اس معاملے پر پاکستان کے بجائے سعودی عرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بدقسمتی سے ہم نے دیکھا کہ سعودی عرب پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اب انہوں نے پاکستان کے مرکزی بینک کے حوالے سے کچھ باتیں کی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ سعودی عرب میں 40 لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ہم انہیں نکال دیں گے اور اُن کی جگہ بنگلہ دیشیوں کو بھرتی کریں گے۔ دوسری طرف پاکستان اِس وقت سنگین معاشی مسائل سے گزر رہا ہے، اور اسے مرکزی بینک کے معاملات کی وجہ سے کچھ مختلف رویّہ اپنانا پڑا، کیونکہ انہیں دھمکیوں کا سامنا تھا کہ ‘ہم سارا پیسہ نکال لیں گے’۔”

بعد ازاں عمران خان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے پہلے ملائیشیا گئے، اور اگلے اجلاس میں شرکت کا وعدہ بھی کیا۔ کچھ دن پہلے ترک خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ” کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر ہم صدر ایردوان کے شکر گزار ہیں۔” علاوہ ازیں، پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے دورے سے پہلے ایک نوٹ بھی جاری کیا کہ وہ قبرص کے معاملے پر ترکی کے ساتھ ہیں۔

دوسری طرف، جہاں تک کشمیر کا معاملہ ہے پاکستان واقعی تنہا ہے۔ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں، 9 لاکھ فوجیوں کے ذریعے 80 لاکھ کی آبادی پر حکمرانی کرنے کی کوشش، کرفیو جیسی سخت پالیسیوں اور بڑے پیمانے پر گرفتا ریوں پر دنیا کی طرف سے کوئی خاص ردعمل نہیں آیا۔

امید ہے اس دورے سے کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا، توانائی سے لے کر ٹرانسپورٹیشن کے متعدد منصوبے بنیں گے اور عسکری تعاون بڑھے گا۔

پاکستانی عوام کے دل میں ترکی ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ اُن کی نسل ہے کہ جنہوں نے ترکی کی جنگِ آزادی کے دوران اپنے زیور تک بھیجے اور یوں ترکی کی مدد کی یا وہ کہ جنہوں نے عراق سے لے کر سنگاپور تک کئی محاذوں پر اپنی ہی برطانوی فوج کے خلاف بغاوت کی تاکہ انہیں عثمانی فوجیوں پر گولی نہ چلانی پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے ترک قوم کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، جس نے آج تک برادرانہ تعلقات کی مثال قائم کی ہے۔

تبصرے
Loading...