عرب امارات کے دو انٹیلی جنس اہلکار ترکی میں گرفتار، خاشقجی کے قتل سے تعلق کا شبہ

0 1,092

ترکی نے استنبول سے متحدہ عرب امارات کے دو انٹیلی جنس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے عرب شہریوں کی جاسوسی کا اقرار کیا ہے۔ان میں سے ایک کے بارے میں شبہ ہے کہ اُس کا تعلق سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے ہے کہ جو چھ ماہ قبل ایک سعودی قاتل اسکواڈ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

انادولو ایجنسی کے مطابق ترکی تحقیقات کر رہا ہے کہ گرفتار شدگان میں ایک کا تعلق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے خاشقجی قتل سے تو نہیں ہے۔ رائٹرز نے بتایا ہے کہ سینئر ترک عہدیداروں کے مطابق دونوں نے عرب امارات کے لیے عرب شہریوں کی جاسوسی کا اقرار کیا ہے اور اب ترکی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ان کی آمد خاشقجی قتل کے حوالے سے تو نہیں تھی۔

امارتی شہری استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی زیرِ قیادت تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار ہوئے اور دونوں کو عسکری، سیاسی و بین الاقوامی جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔

جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018ء کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں 15 افراد پر مشتمل ایک اسکواڈ کے ہاتھوں قتل کیے گئے۔ یہ دستہ سعودی باشندوں پر مشتمل تھا جو ترکی میں اِس قتل اور خاشقجی کی لاش ٹھکانے لگانے کے لیے ہی آئے تھے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ ترکی آنے والے اِن دو افراد میں سے ایک خاشقجی قتل کے محض چند روز بعد ہی ترکی آیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر جاسوس بعد میں اپنے ساتھی کی مدد کے لیے آئے۔ ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہم تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس اہم شخص کی ترکی آمد کا تعلق خاشقجی قتل سے تو نہیں تھا اور یہ بھی بتایا کہ یہ شخص چھ مہینے سے زیر نگرانی تھا۔ "ہو سکتا ہے کہ عربوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی کہ جن میں ترکی میں رہنے والے سیاسی مخالفین بھی شامل ہوں۔” انہوں نے مزید کہا۔

گرفتاری کے دوران ترک حکام نے چند انکرپٹڈ کمپیوٹرز بھی تحویل میں لیے جو حکام کے مطابق جاسوس ٹولے کے ٹھکانے پر خفیہ جگہ پر رکھے گئے تھے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار شدگان کے بیانات سے لگتا ہے کہ ان کا انٹیلی جنس آپریشن سیاسی پناہ لینے والوں اور طلبہ کے خلاف تھا۔

روزنامہ صباح کو معلوم ہوا کہ مشتبہ افراد کے نام S.S اور Z.H ہیں جن کے گروپ کا مقصد ایک ترکی مخالف ڈھانچہ ترتیب دینا تھا۔ S.S اپنی ملاقاتوں کی وجہ سے ترکی کی قومی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) کی نظروں میں آیا اور یوں عملی و تکنیکی نگرانی کی زد میں بھی آ گیا، حکومتی عہدیداروں نے بتایا۔ MIT نے یہ بھی پایا کہ وہ پیسوں کے بدلے اپنے روابط سے معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔

دوسرے مشتبہ شخص Z.H کو S.S کی سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد اس کی مدد کے لیے پانچ ماہ بعد ترکی بھیجا گیا۔ دونوں چند روز رات گئے تک کام کرتے بھی پائے گئے۔ جب انٹیلی جنس یونٹوں نے پتہ چلایا کہ یہ دونوں دراصل جاسوسی سرگرمیاں کر رہے تھے تو MIT اور استنبول پولیس نے سوموار کو عین اس وقت مشترکہ آپریشن کیا جب دونوں ملنے کے مقام کی طرف جا رہے تھے۔

CIA نے اکتوبر میں پایا تھا کہ خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔ البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے CIA کی رپورٹ کو متنازع قرار دیا اور صحافیوں کو بتایا کہ CIA کو کے مطابق ہو سکتا ہے انہوں نے حکم دیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے نہ دیا ہو۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ اس قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ "دنیا کو موردِ الزام ٹھیرایا جا سکتا ہے کیونکہ دنیا ایک خطرناک مقام ہے۔”

جرم میں ملوث ہونے سے کئی ہفتے تک انکار کرتے رہنے کے بعد سعودی عرب نے پھر تسلیم کیا کہ خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا تھا لیکن اس سے پھر بھی انکاری رہا کہ شاہی خاندان اور ولی عہد کو خاشقجی کے قتل کی کوئی بھی پہلے سے معلومات تھی یا وہ ذمہ دار تھے۔ قتل کا الزام نچلی سطح کے افراد پر لگایا گیا جن میں سے پانچ اب سزائے موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے یہ اشارہ بھی دیا کہ باضابطہ طور پر 21 افراد اس واقعے میں ملوث تھے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب قریبی سعودی اتحادی ہیں۔

تبصرے
Loading...