ترکی پر پابندیاں لگوانے کے لیے یو اے ای لابی امریکی کانگریس میں متحرک،دستاویز سامنے آ گئیں

0 3,259

سوموار کے روز ترک رساں ادارے نے دستاویزت کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے امریکی کانگریس سے لابنگ کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی خدمات حاصل کرنے والے آکن گُمپ اسٹراس ہاؤر اور فیلڈ ایل ایل پی کے لابنگ گروپ کے شراکت دار ، چارلس جانسن کی طرف ایک ای میل جو ایوان نمائندگان کی طرف سے پاس کی جانے والی پابندیوں کے بعد سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی بھیجی گئی تاکہ ان پابندیوں کو ممکن بنایا جا سکے۔

محکمہ انصاف کے فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (ایف اے آر اے) کی ویب سائٹس سے حاصل کردہ مسودے پر جانس نے لکھتے ہوئے کہا ہے کہ،”اینڈریو اور میٹ! میں اپنے مؤکل ، متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی جانب سے شام میں ترکی کی جارحیت پر متحدہ عرب امارات کی طرف سے مذمت اور ترکی کے خلاف پابندیوں کے اقدامات کی حمایت پر زور دینے کے لئے لکھ رہا ہوں، جیسے کہ ایوان سے منظور شدہ ‘تنازعات کے خلاف تحفظ برائے ترکی ایکٹ”۔

7 نومبر کو لکھے گئے اس مسودے میں وہ مزید لکھتے ہیں کہ، "مجھے امید ہے کہ معلومات آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوں گی جیسا کہ آپ شام میں ہونے والی پیشرفت پر نظر رکھنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور جیسا کہ سینیٹ پابندیوں کے مجوزہ اقدامات پر غور کر رہا ہے”۔

یہ ای میل وصول کرنے والا واضع نہیں، کیونکہ ان کے ای میل پتے دستاویز میں ظاہر نہیں ہیں۔ لیکن اس لابنگ پر سب سے پہلے روپوٹنگ کرنے والی المانیٹر ویب سائٹ کے مطابق سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیف ڈیموکریٹک کونسل کے نمائندے اینڈریو کییلر ہیں جبکہ ریپبلکن کے چیف وکیل میتھیو سلیوان ہیں۔

ال مانیٹر کے مطابق ، اسٹراس ہاؤر متحدہ عرب امارات کے معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کے لیے ایک درجن سے زائد لابنگ فرموں میں سے ایک ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں اکثریت یا اقلیت نے ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کی ای میلز اور ٹیلیفون کال پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے واشنگٹن سفارتخانے نے بھی تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

متحدہ عرب امارات اس سے قبل ترک صدر ایردوان کے خلاف اپوزیشن کے گیزی پارک احتجاج کو ترک اسپرنگ بنانے کے لیے کھلی مدد کرتا رہا ہے اس کے علاوہ 15 جولائی 2016ء کو فتح اللہ گولن کے فوجی افسروں کی جانب سے بغاوت کے منصوبے میں یو اے ای کے شاہ محمد زائد بن سلطان النہان کے مشیر محمد دلہان کے براہ راست تعاون کے ثبوت مل چکے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ چاوش اولو نے متحدہ عرب امارات کے حوالے انٹرنیشنل فورم پر کہہ چکے ہیں کہ "ہم جانتے ہیں کہ ترکی میں بغاوت کی کوشش کو ایک ملک نے 3 ارب ڈالر کی مالی مدد کی”۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات ترک صدر ایردوان کے مخالف گروپس کو رقوم بھی فراہم کرتا آ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے کئی میڈیا اداروں نے ترکی میں فوجی بغاوت کی کھلے عام حمایت کی تھی۔

اس کے علاوہ ، امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر ، یوسف الاطبیبہ کے ان باکس سے مبینہ طور پر چوری شدہ کچھ ای میلز سے انکشاف ہوا تھا کہ متحدہ عرب امارات 15 جولائی کو ہونے والی بغاوت کی کوشش میں ملوث رہا۔

تبصرے
Loading...