ترکی میں عرب امارات کے جاسوس نیٹ ورک کا انکشاف، ‏CIA‎ سے روابط بھی ظاہر

0 854

ترکی نے متحدہ عرب امارات کے ایک ایسے جاسوس نیٹ ورک کا پردہ چاک کردیا ہے کہ جو ملک بھر میں سرگرمیاں کر رہا تھا۔ معاملے کی تحقیقات کرنے والے سکیورٹی اداروں کے ظاہر کردہ ثبوتوں کے مطابق اس نیٹ ورک کو اپنے آپریشنز میں CIA کی مدد بھی حاصل تھی۔ اس جاسوس گروپ کے سربراہ کو اپریل میں پکڑ لیا گیا تھا کہ جس کی شناخت نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) نے کی اور اس نیٹ ورک کی دیگر تفصیلات کا انکشاف بھی کیا۔ صرف اپنے نام کے ابتدائی حروف H.E.R. سے ظاہر کیا گیا یہ شخص دو گرفتار ہونے والے دوسرے دو افراد کا لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔

رواں سال اپریل میں عرب امارات کے دیگر دو جاسوسوں، سمیر سمیح شعبان اور ذکی Y.M. حسن، کی گرفتاری سے اس نیٹ ورک کا انکشاف ہوا تھا۔ یہ دونوں مبینہ طور پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کے متنازع قتل کے بعد امارات دشمنوں کی تلاش اور ان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے استنبول آئے تھے۔

ان کے اقرارِ جرم کے بعد اس جاسوسی نیٹ ورک اور اس کے CIA کے ساتھ روابط مرحلہ وار سامنے آئے۔

MIT ترکی میں امارات کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی بنیاد رکھنے اور سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سرگرمیاں شروع کرنے والے شعبان اور حسن کا تعاقب چھ مہینے سے کر رہی تھی، جس کے بعد انہیں بالآخر دھر لیا گیا۔

ان نیٹ ورک کا پردہ چاک کرنے کے دوران یہ معلوم ہوا کہ یہ جاسوس مبینہ طور پر فلسطینی اتھارٹی کے سابق سکیورٹی چیف محمد دحلان سے رابطے میں تھے کہ جو مشرق وسطیٰ میں "ہٹ مین” کے نام سے معروف ہیں۔ دحلان اماراتی حکومت اور یمن میں ایک قاتل اسکواڈ کے درمیان اہم ثالث تھے۔

مبینہ طور پر ترک انٹیلی جنس نے یہ بھی پایا کہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ مل کر ترکی، ایران اور قطر کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ترکی میں اپنے مقررہ ٹھکانوں سے رابطے میں رہنے والے دحلان میڈیا اداروں کو فنڈز دے کر یہ کام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی نشاندہی ہوئی کہ ترکی میں شعبان کے مددگار اور دحلان کے جاسوس نیٹ ورک کے ایک اور اہم نام نے استنبول میں گرفتاری کے بعد اپریل میں سلیوری جیل میں خودکشی کرلی تھی۔

دوسری جانب حکام کا ماننا ہے کہ H.E.R. ترکی میں قیام کے بعد ایک جعلی آئی ڈی کے ساتھ ملک چھوڑ گئے تھے۔

ٹیکنیکل اور فزیکل ٹریکنگ کے بعد ان کے مقاصد، روابط اور پس منظر کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئیں۔ دو جاسوسوں میں سے ایک شعبان نے تحقیقات کے دوران ثبوت سامنے آنے پر اپنے دحلان کے رابطوں کو تسلیم کیا۔

شعبان ترکی کے خلاف اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے بدنام تھے اور کافی عرصے سے دحلان کے لیے کام کر رہے تھے۔ پھر بھی انہوں نے کسی بھی ایسے الزام کی تردید کی کہ وہ ترکی کے خلاف کسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

"جب میں ترکی آیا تھا تو میں ریٹائر ہو چکا تھا، میں کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ جس نے ترکی کو نقصان پہنچا ہو۔ جہاں تک ممکن ہو میں ترکی میں خدمات انجام دینے کو تیار ہوں،” شعبان نے کہا۔ اپنے مشتبہ پسِ منظر کے باوجود ان کا دعویٰ تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ناقد جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو اپنی شادی کی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے جس کے بعد ان کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ اسی روز 15 دوسرے سعودی شہری، جن میں سے بیشتر سعودی انٹیلی جنس کے اہلکار تھے، استنبول پہنچنے اور قونصل خانے کا دورہ کیا۔ شعبان 1979ء میں لبنان میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو فلسطین سے لبنان آیا تھا۔ انہوں نے CIA ایجنٹوں سے بم ٹریننگ حاصل کی اور 2009ء سے 2017ء کے دوران دبئی کے فلسطینی قونصل خانے میں کام کیا۔

وہاں اپنے قیام کے دوران ولی عہد محمد بن زاید کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ جس کے بعد انہوں نے دحلان کے دہشت گرد سیل میں کام شروع کیا اور ترکی کے خلاف سرگرمیوں کی وجہ سے معروف ہوئے۔

شعبان کے موبائل پر حسن، کوڈ نام ابو یوسف، اور دبئی میں انٹیلی جنس ایجنٹ قسام ابو سلطان کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو بھی پکڑی گئی۔ جس میں شعبان کا کہنا تھا کہ "اگر میں انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہا تھا اور جعلی معلومات بیچ رہا تھا تو کئی لوگوں کی طرح امیر ہوتا۔”

سکیورٹی عہدیداروں کی جانب سے اس مشتبہ جملے کی تحقیقات پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ انٹیلی جنس سروسز کو یہ معلومات فروخت کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

جیسا کہ رپورٹ بتاتی ہے کہ شعبان اور حسن کا اہم ہدف فلسطینی گروپوں حماس اور الفتح کے حامیوں کا تعاقب کرنے تھے، بالفاظِ دیگر اسرائیل، سعودی عرب اور عرب امارات کے دشمنوں کا۔ وہ استنبول میں اخوان المسلمون کے ڈھانچے کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔

عرب امارات ماضی میں FETO کی حمایت بھی کر چکا ہے

خاشقجی کا قتل وہ واحد معاملہ نہیں کہ جس میں عرب امارات نے ترکی کے لیے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور ملک کے خلاف سازشیں ترتیب دیں۔ گولن دہشت گرد گروپ (FETO) کی 15 جولائی کی بغاوت کے بعد مڈل ایسٹ آئی کے ڈیوڈ ہیئرسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ الغاد ٹیلی وژن چینل کے مالک دحلان نے اس بغاوت کے لیے دہشت گرد گروپ کو پیسے بھی بھیجے تھے۔

29 جولائی 2016ء کو ہیئرسٹ کی جانب سے مڈل ایسٹ آئی میں لکھی گئی اس تحریر کے مطابق دحلان نے مبینہ طور پر FETO کے باغیوں کو بغاوت کے لیے ہفتوں پہلے رقوم منتقل کی تھیں اور ایک قریبی فرد کے ذریعے فتح اللہ گولن سے براہِ راست رابطہ بھی کیا تھا۔ بغاوت کی رات اماراتی میڈیا نے خبر دی تھی کہ گولن کے حامی کامیاب ہو گئے ہیں۔ 15 جولائی کی ناکام بغاوت 16 جولائی کو علی الصبح ناکام ہوئی جب گولن باغیوں نے عام شہریوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 249 معصوم افراد جان سے گئے، انہوں نے ترک پارلیمان پر بمباری کی اور اس گھر پر چھاپہ بھی مارا کہ جہاں صدر رجب طیب ایردوان اس رات مقیم تھے۔

2017ء میں صدر ایردوان نے کہا تھا کہ انقرہ جانتا ہے کہ کون سے خلیجی ممالک بغاوت کی اِس کوشش پر خوش تھے۔ "ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جب یہاں ترکی میں بغاوت کی کوشش کی جا رہی تھی تو خلیج میں کون کون خوش تھا ۔ ہمارے پاس انٹیلی جنس ایجنسی ہے جو جانتی ہے کہ کس نے وہ رات کہاں اور کس طرح گزاری تھی۔”

صدر نے یہ بھی زور دیا کہ ترکی یہ معلومات بھی رکھتا ہے کہ کچھ ملکوں نے اس سلسلے میں کیا کیا اخراجات کیے۔

مزید برآں، امریکا کے لیے متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف عطیبہ کے ان باکس سے چوری ہونے والی چند ای میلز نے انکشاف کیا تھا کہ عرب امارات 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش میں ممکنہ طور پر ملوث تھا۔

تبصرے
Loading...