امریکا ترکی کے خلاف لیبیا میں مداخلت کرے، ایک خفیہ اماراتی خط میں انکشاف

0 235

متحدہ عرب امارات لیبیا کی خانہ جنگی میں امریکا کی مداخلت کے لیے لابنگ کر رہا ہے، جس کا انکشاف TRT ورلڈ نے ایک دستاویز میں کیا ہے۔ اس کا مقصد حالات کو دوبارہ باغی جرنیل خلیفہ حفتر کے حق میں کرنا ہے کہ جو 14 مہینے سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مرکزی حکومت کے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی عہدیداروں کو بھیجے گئے ایک خط میں امریکا کے لیے اماراتی سفیر یوسف عتیبہ کہتے ہیں کہ "جب تک لیبیا میں ترکی کے بڑھتے قدم نہیں روکے جاتے، حالات بد سے بدترین ہو سکتے ہیں۔”

عتیبہ کا یہ پیغام واشنگٹن میں اماراتی سفارت خانے کےقانونی امور کی سابق ڈائریکٹر ہاجر العود اور لابنگ ادارے ایکن گمپ کے ایک ملازم نے 22 جون کو ایک ای میل کے ذریعے بھیجا تھا۔

اس میں عتیبہ نے لکھا ہے کہ "سرت کے اردگرد ترکی کی پیش قدمی اور اشتعال انگیزی جاری ہے اور اس نے ساحل کے ساتھ بحری جنگی جہاز بھی تعینات کر رکھے ہیں۔ ہمارا تجزیہ ہے کہ یہ مصر کو میدان میں لانے کے لیے جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے اور اس وقت مصر اس پر سنجیدگي سے غور بھی کر رہا ہے۔ اب جو ہوگا وہ مصر اور ترکی کے مابین براہ راست فوجی تنازع ہو سکتا ہے۔”

ای میل کا کہنا ہے کہ ترکی لیبیا میں "دہشت گرد” بھیج کر حالات کو خراب اور بحیرۂ روم میں مصر کے ساحل کے قریب بحری جنگی جہاز تعینات کرکے مصر کو جھانسے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرقی لیبیا میں ٹھکانے رکھنے والے باغی جرنیل روس، متحدہ عرب امارات، مصر اور فرانس کی پشت پناہی سے طرابلس پر قبضہ کرکے اس کا کنٹرول اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) سے چھیننا چاہتے ہیں۔ جنگجوؤں کی حمایت کے لیے ہتھیاروں اور کرائے کے سپاہیوں کی آمد اقوام متحدہ کی جانب سے ملک میں مستقل امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

ہفتر کی 14 مہینے سے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش GNA نے ناکام بنائی اور ترہونہ کا اہم قصبہ اور الوطیہ ایئربیس اپنے قبضے میں لے لیا۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد باغی افواج کو راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔ اقوام متحدہ کے مطابق حفتر کی دارالحکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش نے ایک انسانی بحران کو جنم دیا کہ جس میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے اور تقریباً 5 لاکھ بے گھر ہوئے۔

تبصرے
Loading...