ترکی میں روسی اور یوکرائنی وزرائے خارجہ کا سہہ فریقی اجلاس

0 996

روس، یوکرائن اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے درمیان انتہائی اہم سہ فریقی اجلاس ترکی کے تفریحی شہر انطالیہ میں اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ دو ہفتوں کی جنگ کے بعد، روس اور یوکرائن کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز پہلی بار براہ راست بات چیت کی، ملاقات کے بعد یوکرائن کے دیمیٹرو کولیبا نے کہا کہ اس اجلاس میں جنگ بندی کے حصول کے لیے "کوئی پیش رفت” نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے 2.2 ملین یوکرائنی مہاجرین بن چکے ہیں۔ دریں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ماسکو کیف کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے پائیدار جنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یوکرائن میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرائن اور روسی وزرائے خارجہ کے درمیان تمام تر مشکلات کے باوجود ملاقات ایک سویلین ملاقات تھی اور اس بات چیت کا سب سے اہم مقصد براہ راست رابطہ قائم کرنا تھا۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ "ترکی ان ممالک میں سے ایک ہے جو یوکرائن کے لیے ممکنہ پائیدار امن معاہدے کے لیے ثالث بننے کی کوشش کر رہا ہے۔”

جنوبی ترکی میں اجلاس کے بعد، یوکرائنی وزیر خارجہ کولیبا نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سب سے مشکل صورتحال یوکرائن کے شہر ماریوپول میں ہے، تاہم روسی وزیرخارجہ لاوروف نے وہاں انسانی ہمدردی کی راہداری کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔

کولیبا نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ محصور شہر ماریوپول سے شہریوں کو "انسانی ہمدردی کی راہداری” کے ذریعے نکالنے کی اجازت دے۔

کولیبا نے کہا کہ وہ محصور شہر سے انسانی ہمدردی کی راہداری پر ایک معاہدے کے ساتھ اجلاس سے نکلنا چاہتے تھے لیکن "بدقسمتی سے روسی وزیر لاوروف اس کا وعدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔”

کولیبا نے مزید کہا کہ روسی وزیر لاوروف "اس معاملے پر متعلقہ حکام سے بات چیت بڑھائیں گے۔”

روسی وزیر خارجہ لاوروف نے ترکی میں یوکرائنی ہم منصب کے ساتھ اجلاس کے بعد ایک اور میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ روس نے یوکرائن کو اپنی تجاویز پیش کی ہیں اور وہ اس کا جواب چاہتا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغرب یوکرائن میں ہونے والے واقعات کے ردعمل میں خطرناک رویہ اختیار کر رہا ہے اور وہاں روس کی فوجی کارروائی منصوبے کے مطابق ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب خطے میں ایک ایسا خطرہ پیدا کر رہا ہے جو کئی سالوں تک برقرار رہے گا اور جو لوگ یوکرائن کو ہتھیار اور کرائے کے جنگجو سپلائی کر رہے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

انہوں نے یورپی یونین اور دیگر ممالک پر الزام لگایا کہ وہ یوکرائن کو ہتھیاروں کی فراہمی کی "خطرناک طریقے سے” پشت پناہی کر رہے ہیں، کیونکہ یہ ہزاروں روسی فوجیوں کے حملے کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا ہے۔

لاوروف نے کہا کہ "آج کی میٹنگ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بیلاروس میں روسی یوکرائنی فارمیٹ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔”

لاوروف نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اپنے یوکرائنی ہم منصب ولادیمیر زیلینسکی کے ساتھ "مخصوص” مسائل پر بات کرنے کے لیے ملاقات سے انکار نہیں کریں گے۔

پاکستان کو”بائراکتار” مل گئے، 23 مارچ پریڈ کا حصہ ہوں گے

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: