یوکرائن، ترکی اور جرمنی کو ضامن بناناچاہتا ہے، ترک وزیرخارجہ

0 856

ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اولو نے جمعرات کو روز دئیے گئے ایک ٹیلیویژن بیان میں کہا ہے کہ، یوکرائن چاہتا ہے کہ روس کے حملے کے خاتمے کے بعد ترکی اور جرمنی ضامن ریاستوں کا کردار سنبھالیں۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ممکنہ تیسری ضامن ریاست کے طور پر "اٹلی بھی میز پر ہے”۔

انہوں نے ماسکو کے اس مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ یوکرائن نے خود کو نیٹو فوجی اتحاد سے باہر رکھا ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا، "یوکرائن اپنے تحفظ کی یقین دہانی چاہتا ہے اگر وہ نیٹو میں شامل نہیں ہوتا ہے۔”

چاوش اولو نے یہ بھی کہا کہ ترکی، خاص طور پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرائنی ہم منصب دیمیٹرو کولیبا کے ساتھ سفارت کاری میں سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک نے ترکی میں بات چیت کا پہلا قدم اٹھایا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔”

یوکرائنی اور روسی وفود نے ملاقات کے بعد الگ الگ بیانات میں منگل کو استنبول میں ہونے والی "تعمیری” بات چیت کو سراہا۔

منگل کو استنبول میں روسی وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد بات کرنے والے ایک مذاکرات کار کے مطابق یوکرین ترکی سمیت آٹھ ممالک کو ضامن ریاستوں کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

یوکرائن نے روس کے ساتھ مذاکرات کے تازہ ترین دور میں سیکورٹی کی ضمانتوں کے بدلے ایک غیر جانبدار حیثیت اختیار کرنے کی تجویز پیش کی، یعنی وہ فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہو گا اور نہ ہی فوجی اڈوں کی میزبانی کرے گا۔

مذاکرات کاروں نے استنبول میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ تجاویز میں ملحقہ کریمیا کی حیثیت کے بارے میں 15 سال کی مشاورتی مدت بھی شامل ہوگی اور یہ صرف مکمل جنگ بندی کی صورت میں نافذ ہو سکتی ہے۔

مذاکرات کار نے کہا کہ غیر جانبداری کا مطلب یہ ہوگا کہ یوکرین کسی غیر ملکی فوجی اڈے کی میزبانی نہیں کرے گا۔

دریں اثناء اعلیٰ روسی مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے کہا کہ استنبول میں یوکرائن کے ساتھ ہونے والی بات چیت تعمیری تھی۔

میڈنسکی نے کہا کہ ہم یوکرائن کی تجاویز صدر پوٹن تک پہنچائیں گے۔

روسی وزارت دفاع نے کہا کہ ملاقات کے بعد کیف اور چرنی ہیو کے ارد گرد آپریشنز کو مذاکرات کے لیے معطل کر دیا جائے گا۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: