بالآخر اقوامِ متحدہ نے خاموشی توڑ دی، محمد مُرسی کا ظالمانہ قتل تسلیم کرلیا

0 163

مصر میں آزادانہ طور پر منتخب ہونے والے پہلے صدر محمد مُرسی کے قتل کے بعد کئی ماہ کی خاموشی بالآخر ٹوٹ گئی ہے اور اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ نے کہا ہے کہ انہیں مصری حکومت نے ظالمانہ طریقے سے قتل کیا، اور ساتھ ہی ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی روشنی ڈالی۔

گو کہ اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ کچھ اہمیت تو رکھتی ہے، یا کم از کم اس ظالمانہ قتل کو دستاویزی صورت فراہم کرتی ہے، لیکن یہ امر حیران کُن ہے کہ جب مُرسی حیات تھے تو مصریوں کے بارہا مطالبات کو نظر انداز کیا گیا۔ اس وقت بھی ہزاروں افراد قید خانوں میں جبکہ کئی حراست میں ہیں کہ جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔

رپورٹ کہتی ہے کہ مُرسی "دن میں 23 گھنٹے قیدِ تنہائی میں گزارتے اور ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور نظر کے مسائل کے باوجود ان کی صحت پر توجہ نہیں دی گئی۔” یوں مصری حکومت نے ان کو خاموشی سے اور تکلیف دہ انداز میں قتل کیا۔ مُرسی کا انتقال 17 جولائی کو ہوا تھا۔ جب وہ زندہ تھے تو انسانی حقوق کے مختلف اداروں نے مغربی طاقتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مصری حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرے، لیکن امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک نے ان مطالبات کو نظر انداز کیا اور حالیہ تاریخ میں اجتماعی سزا کے بدترین واقعات میں سے ایک اس واقعے سے غفلت برتی۔ بالآخر مرسی کی وفات کے بعد اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بیان میں کہا ہے کہ مصری حکومت نے انہیں قتل کیا۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے ماہرین کی رپورٹ کی بنیاد پر کہا ہے کہ "مصر کی موجودہ حکومت کو سابق صدر محمد مرسی کے قتل کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے، اور ساتھ ہی ان ہزاروں مزید قیدیوں کی صحت اور زندگی کا بھی کہ جو سنگین خطرے کی زد میں ہیں۔” اس بیان میں ماہرین کہتے ہیں کہ "ڈاکٹر مُرسی کو ان حالات میں رکھا گیا کہ جنہیں سادہ الفاظ میں ظالمانہ کہا جا سکتا ہے، خاص طور پر وہ پانچ سال جو انہوں نے طرہ جیل میں کاٹے۔” ماہرین نے کہا کہ اُن کی موت "ان کی موت بدترین حالات کا سامنا کرنے کی وجہ سے ریاست کی مدد سے کیا گیا جبری قتل کہی جا سکتی ہے۔”

بہرحال، یہ ایک مثبت علامت ہے کہ اقوامِ متحدہ اور اس کے ماہرین کو مصری قید خانوں کی بدترین حالت کا احساس ہوا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ ایسے مزید ہزاروں قیدی موجود ہیں کہ جن کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، ان میں سے بیشتر کو "موت کے سنگین خطرہ” کا سامنا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ان قید خانوں کی حالت جان بوجھ کر خراب رکھی جاتی ہے کیونکہ 2013ء میں مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے موجودہ صدر عبد الفتح سیسی "مخالفین کو خاموش کرانے” کے لیے انہیں ایسی بھیانک قید سے ڈرا رہے ہیں۔

دورانِ قید مرسی کی حالت پر ماہرین نے کہا کہ "ڈاکٹر مرسی کو دِن کے 23 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا۔ انہیں دوسرے قیدیوں کو دیکھنے تک کی اجازت نہیں تھی، بلکہ اُس ایک گھنٹے میں بھی نہیں کہ جس میں انہیں ورزش کرنے کی اجازت تھی۔ انہیں کنکریٹ کے فرش پر سونے پر مجبور کیا جاتا اور صرف ایک یا دو کمبل دیے جاتے۔ انہیں کتابوں، رسالوں، لکھنے کے لیے ساز و سامان یا ریڈیو تک رسائی کی اجازت نہیں تھی۔ ڈاکٹر مرسی کو زندگی بچانے والی ادویات اور ذیابیطس و ہائی بلڈ پریشر کی دیکھ بھال کی سہولت بھی نہیں دی گئی۔ آہستہ آہستہ اُن کی بائیں آنکھ کی بینائی بھی چلی گئی، انہیں ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والی بار بار غشی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حالت میں ان کے دانت تیزی سے خراب ہوئے اور مسوڑھوں میں انفیکشن ہوگئے۔”

ماہرین نے اِس وقت قید میں موجود مرسی کے سابق مشیرِ خارجہ عصام الحداد اور ان کے صاحبزادے اور اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد کے ساتھ کیے جا رہے غیر انسانی سلوک پر بھی بات کی۔ "ان دو افراد کو دورانِ قید بدترین حالت میں رکھ کر اور طبی سہولیات فراہم نہ کرکے قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ارادتاًکیا جا رہا ہے یا پھر جان بوجھ کر بے پروائی اختیار کرکے اس قتل کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔”

تبصرے
Loading...