لیبیا میں اجتماعی قبروں کی دریافت، اقوامِ متحدہ کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ

0 170

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرے نے لیبیا میں باغی جرنیل خلیفہ حفتر سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں اجتماعی قبروں کی دریافت پر سخت صدمے کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے لیبیا کی اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اجتماعی قبروں کی حفاظت کرے، مارے گئے افراد کی شناخت کرے، ان کی اموات کے سبب تلاش کرے اور ان کی باقیات رشتہ داروں تک پہنچائے۔ اقوام متحدہ کےترجمان اسٹیفن دویارِک نے کہا کہ انہوں نے اس پورے عمل میں اقوامِ متحدہ کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

دویارِک نے کہا کہ "سیکریٹری جنرل نے لیبیا کے تنازع میں ایک مرتبہ پھر تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کے ضابطوں کی پیروی کرنے کی یاددہانی کروائی۔”

اقوام متحدہ نے کہا کہ اب تک کم از کم آٹھ اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، جو زیادہ تر اہم مغربی قصبے ترہونہ میں نکلی ہیں جو طرابلس پر قبضے کی 14 ماہ تک جاری رہنے والی مہم کے دوران خلیفہ حفتر کا اہم گڑھ تھا۔

ان قبروں کی دریافت سے ان خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے کہ حفتر کے مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ فلپ ناسف نے کہا کہ گروپ ان اجتماعی قتلِ عام کی تصدیق کے لیے کام کر رہا ہے۔ "ہم ان علاقوں میں جاکر ممکنہ جنگی جرائم اور دیگر واقعات کے ممکنہ ثبوت اکٹھے کرنا چاہتے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔”

اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ طرابلس حکومت نے پچھلے ہفتے ترہونہ کو دوبارہ حاصل کیا ہے جو دارالحکومت سے تقریباً 65 کلومیٹرز دور واقع ہے۔

حکومت کے وزیرِ داخلہ فتحی باشآغا نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ترہونہ میں مبینہ جنگی جرائم کے دستاویزی ثبوت اکٹھے کی جا رہے ہیں اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کی اجتماعی قبروں میں درجنوں افراد کو زندہ دفن کیا گیا۔

باشآغا نے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیموں نے ترہونہ میں ایک کنٹینر بھی برآمد کیا کہ جس میں جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں، جو ممکنہ طور پر گرفتار افراد کی تھیں۔ انہوں نے ان سنگین جرائم کے لیے حفتر کی وفادار طاقتور ملیشیا کو ذمہ دار قرار دیا۔

لیبیا 2011ء میں طویل عرصے سے ملک پر حکمرانی کرنے والے آمر معمر قذافی کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے خانہ جنگی کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک مشرقی اور مغربی علاقوں میں مقابل انتظامیہ کے مابین تقسیم ہے، جن کو مسلح گروپوں اور غیر ملکی حکومتوں کا ساتھ حاصل ہے۔

حفتر کو فرانس، روس، اردن، متحدہ عرب امارات اور دیگر اہم عرب ملکوں کی پشت پناہی حاصل ہے جبکہ طرابلس میں قائم حکومت کو اقوام متحدہِ کے ساتھ ساتھ ترکی، اٹلی اور قطر کا ساتھ حاصل ہے۔

تبصرے
Loading...