اسرائیل مغربی کنارے کو شامل کرنے کے منصوبے ترک کرے، اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا مطالبہ

0 875

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے حصے اپنے ملک میں شامل کرنے کے منصوبے ترک کرے اور کہا ہے کہ یہ "بین الاقوامی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی ہوگی۔” یہ بیان منگل کو سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں موجود ہے۔

سلامتی کونسل کو بھیجی گئی یہ رپورٹ اسرائیل-فلسطین تنازع پر سال میں دو بار ہونے والے اجلاس سے قبل آئی ہے۔ عرب لیگ کی درخواست پر متعدد وزراء اس میں حصہ لیں گے۔

دستاویز میں گوتیریس کہتے ہیں کہ اسرائیلی قبضہ نئے مذاکرات اور حتمی دو-ریاستی حل کی امیدوں کے لیے "تباہ کن” ثابت ہوگا۔ "میں اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنے ان ارادوں کو ترک کرے کیونکہ ایسا کوئی بھی قدم علاقائی امن پر پیش رفت کی کوششوں کو خطرے سے دوچار کر دے گا۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی ہوگی۔ یہ فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے کے لیے تباہ کُن ہوگا۔”

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ یکم جولائی سے ان علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کا آغاز کر سکتے ہیں۔ منصوبہ مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ تزویراتی اہمیت رکھنے والی وادئ اردن میں یہودی آبادیوں کو شامل کرنے کا ہے۔ واشنگٹن کی پشت پناہی سے بنائے گئے اس منصوبے میں فلسطینی ریاست تو موجود ہے لیکن کہیں محدود علاقے پر اور اس میں فلسطین کے اس بنیادی مطالبے کو بھی مسترد کیا گیا ہے کہ مشرقی یروشلم کو ان کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔

فلسطین نے اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

سلامتی کونسل کا وڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والا اجلاس یکم جولائی کی ڈیڈلائن سے پہلے اس مسئلے پر آخری بڑا بین الاقوامی اجلاس ہوگا۔

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا تھا تو 2017ء کے اواخر میں سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 اراکین نے اس کی مذمت میں قرارداد منظور کی تھی، لیکن امریکا نے اسے ویٹو کر دیا۔

ایسی ہی ایک قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی پیش کی گئی کہ جہاں کسی ملک کے پاس ویٹو پاور نہیں ہے تو یہ حمایت میں 128 ووٹوں کے ساتھ پاس ہوئی جبکہ 35 ملک غیر حاضر رہے۔

لیکن سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایسا کوئی قدم اٹھا بھی لے تو اس پر پابندیوں لگنے کا امکان، جیساکہ کریمیا پر قبضے کے بعد روس پر لگائی گئی ہیں۔

تبصرے
Loading...