اقوامِ متحدہ اور نیٹو نے شام میں تنازع کے سیاسی حل کا مطالبہ کر دیا

0 420

اقوامِ متحدہ اور نیٹو نے شمال مغربی شام میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ یہ مطالبہ اس موقع پر آیا ہے جب کسی سفارتی حل کی تلاش کے لیے ترکی اور روس کے سربراہان ملاقات کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہِ کے خصوصی سفیر برائے شام گیئر پیڈرسن نے قاہرہ میں عرب لیگ وزرائے خارجہ سے کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ آپ اس مطالبے میں میرے ساتھ ہوں گے کہ فوری طور پر کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے کہ جو شہریوں کو مزید مشکلات سے بچا سکے اور سیاسی عمل کے لیے مزید بہتر حالات پیدا کر سکے۔”

ترک صدر رجب طیب ایردوان، جو شام کے صوبہ ادلب میں حزبِ اختلاف کے چند گروپوں کی حمایت کرتے ہیں، اور بشار اسد حکومت کے مضبوط اتحادی روس کے صدر ولادیمر پوتن ماسکو میں ملاقات کر رہے ہیں۔

دسمبر سے اب تک شامی حکومت ادلب میں حزبِ اختلاف کے خلاف ایک تباہ کن فوجی مہم پر ہے کہ جو ملک میں 9 سال کی طویل خانہ جنگی کے بعد باقی رہ جانے والا حزبِ اختلاف کا آخری گڑھ ہے۔

حالیہ چند ہفتوں میں ادلب میں 50 سے زیادہ ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد شامی حکومت کے خلاف انقرہ کی جارحانہ کارروائیوں سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

پیڈرسن نے کہا کہ شامی اور ترکی افواج کے درمیان براہِ راست تصادم اس تنازع کو ایک پریشان کُن موڑ دے رہا ہے۔

جنگ میں مختلف فریق ہونے کے باوجود انقرہ اور ماسکو نے مذاکرات کار استہ کھلا رکھا ہے۔

ایردوان نے کہا کہ وہ ملاقات کے بعد سیز فائر کی پابندی پر فوری اطلاق کی امید رکھتے ہیں۔

پیڈرسن نے خبردار کیا کہ "پانچ بین الاقوامی افواج شام کے اندر متحرک ہیں، اس لیے وسیع بین الاقوامی کشیدگی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ اس لیے ایک غیر یقینی مستقبل اور اس کے سنگین علاقائی نتائج کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے ایک بامعنی سیاسی عمل بہت ضروری ہے۔” انہوں نے کہا کہ "جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنا بہت مشکل ہے۔ فریقین میں باہمی اعتماد کی فضاء بہت کم ہے اور ایسا کرنے کا سیاسی ارادہ بھی نہیں پایا جاتا۔”

شامی حکومت کی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

نیٹو کے چیف جینس سٹولٹن برگ نے بھی شام میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سیاسی حل پر زور دیا۔ کروشیا کے دارالحکومت زغرب کے دورے پر موجود سٹولٹن برگ نے شامی حکومت اور روس سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔

"بحیرۂ ایجیئن میں نیٹو موجودگی بہت اہم ہے لیکن بین الاقوامی برادری کو اس بحران کے اسباب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ضرورت ہے شام کے تنازع کا ایک سیاسی حل ڈھونڈنے کی۔ اس لیے بشار حکومت اور روس کو اپنی جارحانہ کارروائیاں روکنا ہوں گی۔ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی اور پر امن حل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرنا ہوگی۔”

تبصرے
Loading...