شامی عوام کے لیے امداد پر اقوام متحدہ کے مذاکرات، روس کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا

0 318

اگر روس نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ گرما گرم مذاکرات میں مینڈیٹ کی تجدید کے خلاف مزاحمت ختم نہیں کی تو لاکھوں شامی شہریو ں کے انتہائی ضروری انسانی امداد سے محروم رہ جانے کا خطرہ ہے۔ یہ مینڈیٹ شمال مغربی شام میں سرحد پار امدادی آپریشن کی اجازت دیتا ہے۔

کیونکہ سرحد پار امداد کا معاہدہ 10 جولائی کو ختم ہو رہا ہے اس لیےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بحث کر رہی ہے کہ آپریشن جاری رہنا چاہیے یا نہیں اور اگر جاری رکھا جائے تو کتنے عرصے تک۔ انسانی حقوق کے اداروں کو خدشہ ہے کہ اس مینڈیٹ کو ویٹو کر دےگا۔

آفس فار دی کوآرڈی نیشن آف ہیومینی ٹیرین افیئرز (OCHA) نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ "سرحد پار میکانزم اقوام متحدہ کے اداروں کو بشار حکومت کی اجازت کے بغیر امداد فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے، جو بہت اہم ہے کیونکہ حکومت امداد کو حزب اختلاف کے علاقوں میں پہنچنے سے روکتی ہے۔” مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے اس وقت ترکی سے ہر مہینے شمال مغربی شام میں تقریباً 30 لاکھ شہریوں تک پہنچ رہے ہیں، جن میں سے کئی لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے صورت حال کو "مایوس کُن” قرار دیا ہے۔ HRW کے ڈائریکٹر برائے اقوام متحدہ لوئس شاربونیو نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "شمال مشرقی اور شمال مغربی شام میں امداد کے لیے اسد حکومت پر انحصار حقیقت پسندانہ نہیں۔”

جنوری میں روس نے شام میں اپنے اتحادی بشار اسد کے لیے ایک فتح حاصل کی، جب اس نے اپنی ویٹو کی دھمکی کا استعمال کرکے ترکی سے شمال مغربی شام میں امدادی سامان کی فراہمی کے لیے کراسنگ پوائنٹس کی تعداد کم کرنے کی قرارداد منظور کروائی۔ جو اب چار سے گھٹ کر صرف دو رہ گئی ہے۔ اس سے 2014ء میں سرحد پار امدادی فراہمی کے لیے سال بھر کے مینڈیٹ کو گھٹا کر آدھا بھی کر دیا جو اب صرف چھ مہینے تک کارآمد رہتا ہے جیساکہ روس چاہتا ہے۔

روس شام میں سرحد پار امداد کے خاتمے کا خواہش مند ہے جس کا کہنا ہے کہ یہ عمل شام کی سالمیت کے خلاف ہے اور 2014ء میں اس قرارداد کی منظوری کے بعد اب عملی صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔

روس کی پوزیشن کلیئر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ آئندہ ووٹ چین اور سلامتی کونسل کے نئے اراکین جیسا کہ تونس اور ویت نام کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ "روس شمال مغربی سرحدی راستے میں سے ایک بند کرنا چاہتا ہے اور باقی بچ جانے والے ایک راستے کو بھی صرف چھ مہینے کے لیے کھلا رکھنے کا خواہاں ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ 2020ء کے اختتام تک سرحد پار میکانزم کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔”

غذائیت کی کمی اور غذائی عدم تحفظ میں اضافے کی وجہ سے ورلڈ فوڈ پروگرام نے شام میں قحط کا خدشہ ظاہر کیا ہے، اس لیے امداد بہت ضروری ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی موجودگی کئی این جی اوز کے شمال مغربی شام میں کام کرنے کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

شام کی خانہ جنگی نے 2011ء سے اب تک ملک کی معیشت کو تباہ کر رکھا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق ملک کی 80 فیصد آبادی غربت کا شکار ہو چکی ہے۔ کئی اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ بشار اسد نے شامی عوام کی ضروریات اور تحفظ کو نظر انداز کر رکھا ہے اور ان کی نظریں صرف نئے علاقوں پر قبضہ اور حزب اختلاف کو زیر کرنا ہے۔ اس کے لیے شامی حکومت سالوں سے اسکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں پر بھی بمباری کر رہی ہے جس سے ملک کی آدھی آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ صورت حال بالخصوص شمال مغربی شام کے صوبوں حلب اور ادلب میں زیادہ خراب ہے کہ جو حزب اختلاف کے ہاتھوں میں ہیں۔ ملک کی 50 فیصد صحت کی تنصیبات کام نہ کرنے کی وجہ سے شامی عوام کرونا وائرس کی وباء کی بھی زد میں ہیں۔

تبصرے
Loading...